خطرناک ،تباہ کن اوربربادی کی ہے راہ؛سوشیل میڈیامیں لگی ہے مسلم عورتوں کی نیلامیاں!

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

شیموگہ:۔(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔فیس بک،انسٹاگرام،واٹس ایپ اسٹیٹس،ڈی پی،ٹک ٹاک ویڈیوز،فیس بک ریلس میں اپنے چہروں کو دکھانا،اپنی تصاویر کوعام کرنا،اپنی سرگرمیوں کے تعلق سے لوگوں کو بآور کرنااورہر قدم پر سوشیل میڈیا کا استعمال کرنا آئے دن زندگی کا ایک حصہ بن چکاہے،کیا بچے کیا بوڑھے کیا جوان ،سب کے منہ میںسوشیل میڈیاکے ہیں گن گان۔لیکن یہی سوشیل میڈیا ایک طرف سے لوگوں کو تباہ وبرباد کررہاہے،زندگیوں کو ختم کررہاہے،لیکن لوگ یہ سب سمجھنے سے قاصر ہورہے ہیں۔سوشیل میڈیامیں اپنے آپ کو پیش کرنا قابل فخر بات سمجھا جارہاہے،وہیں سوشیل میڈیا سے ہی زندگیاں بربادبھی ہورہی ہیں۔ سوشیل میڈیا پر اکثر خواتین اور نوجوان لڑکیاں بھی اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو بڑے شوق سے پوسٹ کرتے ہیں ،مگر یہی پوسٹ ان کی عزت کو کس طرح سے تارتار کررہاہے،اس کا اندازہ نہیں ہورہاہے۔سوشیل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ”سوللی” پر پچھلے کچھ دنوں سے ایک خوفناک معاملہ پیش آیاہے۔جس میں سوشیل میڈیا پر ظاہرکئے گئے تصاویر اور ویڈیوز کا غلط استعمال کرتے ہوئے وہاں پر عورتوں کی نیلامی کا کام ہواہے۔اسی ویب سائٹ پرمسلم لڑکیوں کو فحاشہ ور جسم فروش سے منسلک خواتین کے طو رپر بھی پیش کیاگیاہے۔بے ڈھنگے وعریاں تبصرے بھی ان ویب سائٹس پر ہوئے ہیں۔دراصل کچھ شرپسند عناصرنے بھارت کی مسلم لڑکیوں کی تصاویر کو فیس بک ودوسرے سوشیل نیٹ ورکنگ سائٹس سے حاصل کرتےہوئے انہیں "سوللی ڈیلس” نامی وئب سائٹس پر پوسٹ کیاتھا،جس میں مسلم لڑکیوں و خواتین کی بولیاں لگائی تھیں۔حالانکہ اس وقت شکایت کے بعد دہلی پولیس نے ویب سائٹ کو بند کر دیا ہے اور اس معاملے میں تحقیقات بھی شروع کی گئی ہے۔ لڑکیوں کو پھانسنے کیلئے سوشیل میڈیا آسان ہتھیار : ۔سنگھ پریوارکی جانب سے جہاں مسلمانوں کو ذہنی ،معاشی ،تعلیمی اور سماجی حقوق سے محروم کرنے کیلئے پچھلے75 سالوں سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ، اب اُس سے ایک قدم آگے آکر سنگھ پریوارکے کچھ نوجوانوں کومسلم لڑکیوں کو پھانسنے ، مسلم عورتوں کے ساتھ تعلقات بنائے رکھنے کیلئے بھی اِن ڈائریکٹلی ترغیب دی جارہی ہے۔جس کی وجہ سے سوشیل میڈیامیں غیر مسلم لڑکے مسلم لڑکیوں کو دوستی کی دعوت دے رہے ہیں اور چندہی دنوں میں انہیں اپنا شکاربنارہے ہیں۔ہر مہینے میں کئی وارداتیں پیش آرہی ہیں،مگر قانون کی کمزوریوں کی وجہ سے مسلم لڑکیاں تباہ وبرباد ہورہی ہیں ۔ وہیں لوجہادکے نام پر بننے والے قوانین سے مسلم لڑکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جارہے ہیں۔ٹک ٹاک پر مائیں اور بیٹیاں:۔جس قوم کی مائیں ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیوزکو جاری کرینگی اُن کی بیٹیاں اور بہوئیں بھی سوشیل میڈیا ڈانسر،سوشیل میڈیا جاکی بن جاتی ہیں تو اس میں حیرت کی بات نہیں ہے۔کئی تعلیم یافتہ و مہذب گھرانے کی خواتین اب سوشیل میڈیاپر باقاعدہ اپنے چینلس بنا کرناچ گانے ،ٹھٹے مذاق اور ڈیلاگ بازی کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ان خواتین کو دیکھتے ہوئے ان کی بیٹیاں بھی دوسری نسل کی ڈانسرس بننے لگی ہیں۔جب آج کی مائیں ہی یوٹیوبر،ڈانسر اور سوشیل میڈیا شخصیات بن جاتی ہیں تو کل کی بیٹیاں باسلیقہ و باپردہ کیسے ہونگی یہ سوال ہے؟۔سوللی جیسی ویب سائٹس پر99.99 فیصدخواتین کی تصاویر مسلمانوں میں سے ہیں،یہ تمام تصاویر فیس بک اور دیگر سوشیل میڈیاپر جاری کی جانے والی تصاویر ہیں، اس لئے خواتین ونوجوان لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ ان بدترین حالات کو بڑھاوادینے سے گریز کریں ورنہ زندگیاں تبا ہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔