پُر تشدد واقعات کے درمیان قانونی وطبی امدادکیلئے جوائنٹ آیکشن کمیٹی کے کارکنان سرگرم

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شہرمیں ہونے والے پُر تشدد واقعات کے درمیان مختلف مقامات پر جو حادثات ہوئے اُن حادثات میں لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے جوائنٹ آیکشن کمیٹی کے کارکنان مختلف طریقے سے خدمات انجام دیتے ہوئے دکھائی دئیے۔انقلاب کے ویڈیو ایڈیٹر محمد رفیع پر جب حملہ ہوا تو انہیں اسپتال پہنچایاگیا،جہاں پران کی دیکھ بھالی کیلئے اڈوکیٹ شہراز مجاہد صدیقی اور صحافی محمد لیاقت کام کرتے رہے ، اس کے علاوہ ایک اور صحافی لنگن گوڈاکو بھی اسپتال میں تعائون کیاگیا۔اس کے علاوہ آزادنگرمیں ہونے والے تقریباً پندرہ افراد کو اسپتال میں داخل کرواکر ان کا علاج کروانے کی پہل عارف خان عارونے کی۔ساتھ ہی ساتھ ان متاثرین کے ذریعے سے شکایت درج کروانے کیلئے اڈوکیٹ شہراز مجاہد صدیقی اور محمد لیاقت مسلسل کام کرتے رہے۔وہیں حالات جہاں کہیں بھی کشیدگی کا شکارہورہے تھے،اُس پر کام کرنے کیلئے محمدحُسین،محمد انور(انو) کے علاوہ محیب اللہ،ایم ڈی شریف،عبدالمجیب وغیرہ مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔جو لوگ اسپتال میں داخل ہوئے تھے،اُن کیلئے طعام کا انتظام بھی رضاکاروں نے کیا،غرض کہ اس مشکل ترین حالت میں باہمی تعائون کے ذریعے سے کسی کو پریشان ہونے کا موقع نہیں دیاگیاہے۔اس دوران جوائنٹ آیکشن کمیٹی کی جانب سے گذارش کی گئی ہے کہ اگر کسی کو قانونی امدادکی ضرورت ہوتووہ جوائنٹ آیکشن کمیٹی سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔سب سے پہلے کسی بھی غیر متوقع حالات میں کنٹرول روم کو اطلاع دی جائے اور ہر ممکن یہ کوشش کی جائے کہ ایف آئی آر درج ہو۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایف آئی آر درج کرنے سے کوئی حل نہیں نکلتا بلکہ مزید پریشانیوں کا سامنا کرناپڑتاہے،یہ صر ف بدگمانی ہے،اگر ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں تو ان مشکل حالات کا مقابلہ بآسانی کے ساتھ کیاجاسکتاہے۔