بنگلورو:۔پچھلے دوسالوں سے تعلیم کا کیا حال ہے؟آن لائن تعلیم دئیے جانے کی بات کہی گئی ہے،لیکن کیا یہ نظام غریبوں تک پہنچاہے؟،کوویڈ،حجاب اور کیسری شال جیسے معاملات لاکر تعلیم کے شعبے کو بی جے پی نے تباہ کیاہے۔اس بات کااظہار سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کیاہے۔انہوں نے یہاں کے ہیبال ودھان سبھا حلقے میں جے ڈی ایس دفتر کاا فتتاح کرتے ہوئے کہاکہ اسکولوں وکالجوں کا وجود کہاں پہنچاہے،کیا سرکاری تعلیمی اداروں کو سیاستدان اپنے بچوں کو بھیج رہے ہیں۔مسلمان اپنی روایت کے مطابق ڈریس کوڈ کااستعمال کرتے ہیں اور یہ ہزاروں سالوں سے چلتا آیاہے،اسکولوں کو اپنے بچوں کو اگر وہ بھیجتے ہیں تو حجاب پہنا کرہی بھیجتے ہیں،اسی کو بنیاد بنا کر اُڈپی میں معاملہ پیداکیاگیااس کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی اسے ہنگامے کے طو ر پر پیش کیاگیا،دونوں قومی پارٹیاں معصوم بچوں کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کررہے ہیں،مذہب کے نام پر نفرت پھیلاجارہی ہے۔مزید انہوں نےقومی سطح کی پارٹیوں پر اعتراض جتاتے ہوئے کہاکہ سیاسی جماعتیں بچوں کو اپنی سیاست کیلئے استعمال نہ کریں،پہلے ہی تعلیمی نظام درہم برہم ہواہے،نجی تعلیمی اداروں میں ایسے معاملات نہیں ہیں،لیکن سرکاری اسکولوں میں ہی ان باتوں پر جھگڑے ہورہےہیں۔سرکاری اسکول جانے والے بچے غریبوں کے بچے ہیں،اس طرح کے حالات پیداکرکے سیاسی مفادات پر نظر ہے،ووٹ بینک سیاست کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر آج اُنہیں کہاں لے آئی ہے؟یہ میں جانتا ہو ں ۔شیموگہ میں جو معاملہ پیش آیاہے اُس کا کیاہوا؟وہ حجاب اور کیسری شال کا معاملہ نہیں ،پانچ سال قبل اُس نوجوان کی ماں نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ اُس کے بیٹے کی جان کو خطرہ ہے۔یہ بات کیا وہاں کہ سیاستدانوں کو معلوم نہیں تھی؟سی اے اے این آر سی جاری کرنے کے نام پر کیاکیا ہوا یہ بات بھی میں جانتا ہوں،اُس وقت ایک مہینے تک احتجاجات ہوئے تھے اور تبدیل مذہب کا قانون لایاجارہاتھا۔ یوپی میں اب انتخابات ہورہے ہیں اس وجہ سے یہ سب حربے اپنائے جارہے ہیں،بی جے پی پر اعتماد نہ کریں ،وہ ملک کو ختم کرنے جارہی ہے۔کمارسوامی نے مزیدکہاکہ کانگریس لیڈران ہمیں بی جے پی کی بی ٹیم کہتے ہیں ،ایسی تشہیر پر ہم کیا کہیں۔انہوں نے اگلے اسمبلی انتخابات اور بی بی ایم پی انتخابات کیلئے جے ڈی ایس پوری تیاری کررہی ہے،ہمیں انتخابات سے بڑھ کر آنے والے حالات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے،دیش کو فرقہ پرستوں سےبچانے کی ضرورت ہے۔
