اقلیتوں کوپریشان کرنے کیلئے 4 دن مکمل لاک ڈائون ہوا ہے:ترقی پسند تنظیموں کا الزام

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :سوراج انڈیا تنظیم، صحافی، جہد کار ودیگر ترقی پسند تنظیموں کے اتحاد نے شہر کے لاک ڈائون میں کئے گئے ترمیمات کو شدید برہمی کا نشانہ بنایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ یہ فیصلہ کورونا پھیلنے سے روکنے کیلئے نہیں بلکہ اقلیتوں کو پریشان کرنے کیلئےکیا گیا ہے۔ اس لاک ڈائون میں روزمرہ کی ضروریات کی خریداری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے اس کی مذمت میں ترقی پسندتنظیموں کی جانب سے ریاستی حکومت کو مکتوب روانہ کیا گیا۔ اس بات پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کوروناکے وسیع پیمانے پرپھیلائو کی وجہ سے پچھلے کچھ دنوں سے لاک ڈائونافذ کر دیا گیا ہے اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے عوام بھی اصولوں کی سختی سے عمل پیرا ئی کررہی ہے۔ حکومت کےلاک ڈاؤن کے مطابق صبح 6 تا 10 بجے کے درمیان اشیائے ضروری کی خریداری کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ اس سے عوام کو سہولت ہوئی ہے اورجو لوگ زندگی گزارنے کیلئے پھل اور سبزیاں فروخت کرتے ہیںانہیں بھی سہولت ہوئی ہیں۔ لیکن ضلعی نگران کار وزیر نے آج پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ شیموگہ شہر میں بروز جمعرات سے لیکراتوار تک لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات کی چیزوں کی خریداری کیلئے بھی باہر نہیں نکلیں گے۔ یہ وزیر نگران کی بدنیتی پر مبنی فیصلہ ہے۔ انہیں شہریوں کے مفاد ات سے بڑھ کر آنے والے رمضان کی عید میں اقلیتوں کو پریشان کرنا ہے۔ بدنیتی پر مبنی ایشورپا کے اس فیصلے کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مریض گھروں میں آئیسولیشن میں ہیں، معصوم بچے اور بوڑھے لوگوں کیلئے کچھ اشیا ء کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے مفادات کو مدے نظررکھتے ہوئےہردن صبح 6 بجے سے 10 بجے تک چھوٹ کے ساتھ لاک ڈائون جاری رکھنے پر زور دیا ۔ ہم حکومت سے گذارش کررہے ہیں کہ حکومت کو ذمہ داری سے کام کرنا چاہئے۔ پوری دنیا پر وبائی مرض کورونا کا خوف طاری ہے ایسے میں حکومت چلانے والے ذمہ دار وزراء کوفرقہ وارانہ نفرت کے نتیجے میں عام لوگوں کے شہری حقوق کی قربانی نہیں دینی چاہئے۔ہم حکومت سے گذارش کرتے ہیں کہ پچھلے لاک ڈائون کی طرح معمول کی اشیاء کو خریدنے کا موقع دیا جائے ۔ اس موقع پرسوراج انڈیا کے رکن کے پی شریپال، ایم گرو مورتی، ڈی ایس ایس، جہد کارراجیندر چنی، روزنامہ آج کا انقلاب کے ایڈیٹرمدثراحمد،صحافی شی جو پاشاہ وغیرہ موجودتھے۔