بھدراوتی :وی آئی ایس ایل کارخانے میں رکے ہوئے آکسیجن کی پیدوار والے پلانٹ کو دوبارہ شروع کردیا گیا ہےاوراسکو بڑھانے کیلئے بھی حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات اٹھائے جائیںگے۔ اس بات کا اظہار وزیر برائے صنعت جگدیش شیٹر نے کیا ہے۔ وی آئی ایس ایل کارخانے کے آکسیجن بلاٹنگ پلانٹ کا معائنہ کرنے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ہر دن یہاں 150 سلنڈر آکسیجن کی تیاری شروع ہوگئی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ نئے کمپریسر کی تنصیب سے پیدوار میں 400 سے 500 سلنڈر میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں مشینوں کی خریداری سمیت حکومت کی طرف سے ہر طرح کی امداد دینے کی یقین دہانی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں آکسیجن کی طلب کو پورا کرنے کیلئے حکومت حقیقی کوشش کررہی ہے۔ ۔بلاری کی جندال کمپنی اس وقت 500 میگا ٹن آکسیجن تیار کررہی ہے اور اس کو بڑھا کر 1 ہزار میگا ٹن کرنے کا اتفاق کیا ہے۔اس دوران کارخانے کے ملازمین کے لیڈرجگدیش نےبات کرتے ہوئے کہا کہ وی آئی ایس ایل میں آکسیجن کی پیدوار کرنا ہی کافی نہیںہے بلکہ جب تک جمبو سلنڈروں کو بھرنے کا انتظام نہیں کیا جاتا ہے تواس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔ فیکٹری کے تمام یونٹ گذشتہ 6 سالوں سے بند ہیں ۔سرمایہ کاری لگاکر کارخانے کو چلانے اور نجکاری نہ کرنے کی اراکین پارلیمان اور مرکزی حکومت سے کئی بار اپیل کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیاہےیہی وجہ ہے کہ کارخانے کے تمام یونٹ بند ہوچکے ہیں۔ کوویڈکی دوسری لہر دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے اور بہت سارے لوگ آکسیجن کی کمی سے مر رہے ہیں۔ آکسیجن کی قلت کو دور کرنے کیلئے ضلع انتظامیہ نےفیکٹری میں آکسیجن کی پیدوار کرنے کیلئے حکومت سے درخواست کی ہے۔فیکٹری میں 3 آکسیجن پیدا کرنے والے پلانٹوں سے روزانہ 50 ٹن آکسیجن تیار ہوسکتی ہے۔ لیکن آکسیجن سے بھرنے والی بلاٹنگ کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔ موجودہ 700 سے 750 جمبو سلنڈر جانچ کے دوران مسترد کردیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خالی سلنڈر لاکر آکسیجن سے بھر نے سے اس عمل کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔اسکی بصورت پیدا شدہ آکسیجن واپس فضا میںشامل ہوجائےگا۔
