مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

اسٹیٹ نیوز

بنگلورو:۔ریاست میں دلتوں، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنا کر اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے فرقہ پرستوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کے اقلیتی لیڈروں نے آج ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر پراوین سودکو ایک عرضداشت پیش کی ہے۔ ڈی جی پی سے ملاقات کرنے والے کانگریس وفد میں اراکین اسمبلی این اے حارث، کنیز فاطمہ، یو ٹی قادر، رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر نصیرحسین، اراکین کونسل نصیراحمد،پرکاش راتھوڑ، رکن راجیہ سبھاایل ہنومتپا، کے پی سی سی مائنارٹی ڈپارٹمنٹ کے ریاستی صدر عبدالجبار، کانگریس ترجمان نظام فوجدار اور دیگر شامل تھے۔ ڈی جی پی کو پیش عرضداشت میں کہاگیا ہے کہ پرسوں یکم مارچ کو کلبرگی ضلع کے الند میں دفعہ 144کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہنے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اندولن سوامی جی نامی ایک شخص اور چند منتخب نمائندے بھگونت کھوبا، سبھاش کتیدار، راج کمار پاٹل تلکر، بسواراج مٹی ماڈو اور رام سینا اور بجرنگ دل کے کارکنوں و دیگر نے لاڈلے مشائخ درگاہ میں شیولنگ پوجا سے پاک کرنے کے بہانے زبردستی داخل ہوئے جس کے نتیجہ میں علاقہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اس کشیدگی سے تشدد بھی ہوسکتا تھا۔الند کے امن وامان میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے مذکورہ تمام لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا وفد نے مطالبہ کیا ہے۔وفد نے ڈی جی پی کو بتایا کہ شیموگہ میں 22فروری کو ہرشا نامی ایک نوجوان کے قتل کے بعد اس کی آخری رسومات کے وقت بجرنگ دل اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے نکالے گئے جلوس میں امن وامان میں خلل پڑا۔ شیموگہ شہر کے ایک حصہ میں کئی نجی املاک کو زبردست نقصان پہنچایاگیا۔کئی موٹر گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔ دوڈا پیٹ پولیس تھانہ میں شرپسندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے باوجود اب تک پولیس نے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا ہے۔عرضداشت میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ شیموگہ میں یہ تشدد ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا کی اشتعال انگیز اور مسلمانوں کے خلاف زہریلی تقریر کے نتیجہ میں پھوٹ پڑا تھا۔مسلمانوں کے سینکڑوں گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔دنگیوں نے پورے6گھنٹے دنگا مچایا۔ اس کے باوجود آج تک اس تشدد کے سلسلہ میں ایک بھی شرپسند کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ وفد نے ڈی جی پی سے سوال کیا کہ الند میں 20منٹ کی ایک گڑبڑ میں 160/ افراد کو گرفتار کرلیا گیا اور6گھنٹوں کے تشدد میں ایک بھی گرفتار نہیں کیا گیا، کیا انصاف اقلیتوں اور اکثریتوں کے لئے الگ الگ ہے؟ اس تشدد کیلئے ایشورپا کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایشورپا کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا وفد نے مطالبہ کیا ہے۔