شیموگہ:۔تمام شعبوں میں مسلسل نئی دریافتیں اور ترقی ہو رہی ہیں۔ اس طرح کی تکنیکی ورکشاپ کے ذریعے ان سب کے بارے میں جاننےاور زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد حاصل ہوتی ہے۔ان باتوں کا اظہارڈپٹی کمشنرڈاکٹر آر سیلوامنی نے کیا ہے۔انہوں نےکلدی شیوپا نائک ایگر یکلچراینڈ ہارٹی کلچر یونیورسٹی، آئی سی اے آر سائنس سنٹرنولے، محکمہ مویشی پالن اور محکمہ ویٹرنری افسران کے زیر اہتمام مویشیوں کے موجودہ مسائل کے متعلق ایک روزہ تکنیکی ورکشاپ کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ سال میں ایک بار اس طرح کی تکنیکی ورکشاپ کا انعقاد اچھا خیال ہے۔ لیکن حال ہی میں، مویشی پالن اور ویٹرنری ادویات کے شعبے میں بھی نئی دریافتیں ہوئی ہیںاور جانوروں کے ڈاکٹروں کو اپنے کام کی جگہ پر نئے مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مسائل پر یونیورسٹی یا حکومت کو آگاہ کرنے کیلئے ورکشاپس ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کے ذریعہ مختلف موضوعات، مباحثے، تبادلے اور اپ ڈیٹس ہو سکتی ہے۔ اس لیے ماہانہ ایک سیمینار منعقد کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ڈاکٹروں سمیت اسٹاف کیلئے بھی اسکل ٹریننگ کی تربیت دی جانی چاہئے۔ تاکہ اس شعبے میںنئی دریافتوں سے آگاہی مل سکے۔ اجلاس کی صدارت کررہےکلدی شیوپا نائک یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر کے چیئرپرسن ڈاکٹر ایم کے نائک نے کہاکہ عالمی سطح پرتغذیہ بخش خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے والاواحد ملک ہندوستان ہے۔ ڈاکٹر ورگیس کورین کے سفید انقلاب کے نتیجے میں پوری دنیا میں دودھ کی پیدوار میں 22 حصہ ہمارے ملک کا ہوتا ہے۔ یہاں روزانہ 200 ملین لیٹر دودھ کی پیدوارہوتی ہے۔ ہمارے ملک کو فی کس 280 گرام دودھ کی ضرورت ہے۔ لیکن ہماری مصنوعات کے تحت فی کس 480 گرام کے حساب سے دستیاب ہے۔ (عالمی سطح پر)انڈے 7.2فیصد اور گوشت 2.5 فیصدہے اس کے علاوہ مویشیوں کی پیداوار میں ہندوستان پہلے نمبر پر ہے۔لیکن مویشیوں کی صحت کے حوالے سے بہت سے مسائل ہیں۔جانوروں کیلئے منظم شلٹر نہیں ہوتا ہے، جانوروں کو آوارہ چھوڑنا عام بات ہے،اگر مویشیوں کو صحت مند بنانا ہے تو انہیں اچھی خوراک، سبز چارہ اور پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔پروگرام میں یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر سی آر جگدیش، ڈائریکٹر ایس یو پاٹل، زرعی سائنس مرکز کے سربراہ اور سینئرسائنسدان ڈاکٹر بی سی ہنومنت سوامی وغیرہ موجودتھے۔
