کاروار:۔ حجاب تنازع کی وجہ سے جو طلبہ امتحانات میں غیر حاضر رہے ہیں ، انہیں دوبارہ امتحان لکھنے کا موقع نہیں دیا جائیگا۔ اس بات کااظہار وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کاروار میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران کہی . انہوں نے کہا کہ حجاب اور امتحانات کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہائی کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئیگا ہم اسی پر عمل کرینگے ۔ فی الحال حجاب کے ساتھ حاضر ہونے کی گنجائش کسی بھی طالب علم کو نہیں ہے ۔ اس لئے جو لوگ امتحانات سے غیر حاضر رہے ہیں ان کیلئے دوبارہ امتحانات منعقد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اپنے مستقبل کے لئے طلبہ خود ذمہ دار ہیں ۔ملک کے بہت سے ماہرین تعلیم ، عدالت اور ایک ذمہ دار حکومت کی حیثیت سے ہم نے اپیل کی تھی ۔ لیکن یہ کوئی اچھی کلچر کی علامت نہیں ہے 86 ہزار طلبہ میں سے حجاب ، مٹی ، راکھ کے نام پر اسکول سے غیر حاضر رہنے والے طلبہ کی تعداد صرف 400 سے 500 تک ہے ۔ بقیہ طلبہ نے پوری دلچسپی کے ساتھ تعلیم حاصل کی ہے ۔ انہوں نے پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم اب تو کانگریس کو سبق سیکھنا چاہیے ۔ 65 برس تک یہ لوگ جھوٹ بولتے رہے مگر اب عوام نے ان کی حقیقت پہنچان لی ہے ۔ اب ان کا جھوٹ چلنے والا نہیں ہے ۔ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندرا مودی دیش کو "وشوا گرو” بنانے کا جو کام کر رہے ہیں اس کا اعتراف عوام کرنے لگے ہیں ۔ اس لئے اب کانگریس کے کھوکھلے دعووں کی کوئی قیمت نہیں رہی ہے ۔ عوام نے راشٹرواد کے نظریہ کے قبول کرلیا ہے ۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ اگلے تعلیمی سال سے 20 اسکولوں میں بچوں کی ابتدائی تعلیم (اٰرلی چائلڈ ایجوکیشن) پالیسی متعارف کی جائے گی ۔ اس کے تحت اول، دوم اور سوم جماعت کے لئے ضروری اسباق آنگن واڈی مرحلہ میں ہی پڑھائے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ 2013 میں تبدیل کیے گئے تعلیمی نصاب میں بھی آئندہ تعلیمی سال سے نئی تبدیلیاں کی جائیں گی اور قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ضروری اسباق اس میں شامل کیے جائیں گے ۔ ایڈیڈ پی یو کالجوں میں 1700اسامیوں کی بھرتی کی جائیگی ۔ اس کے علاوہ ایک ہفتہ کے اندر 15ہزار اساتذہ کی بھرتی کی جائیگی ۔
