کیا مسلمان اب بھی شیٹی،مارواڑی اور سیٹھ کی دُکان پر کاروبار کرینگے؟،سانپ کو دودھ پلائو،پھر خود کٹوالو
شیموگہ:۔شہرمیں منائے جانے والاہندوئوں کا مشہور تہوار ماری کامباجسے عرف عام میں ماری جاترا کہا جا تا ہے ،اُس میں بھی اب فرقہ وارایت دکھائی دے رہی ہے اور سنگھ پریوارنے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔دراصل آج سنگھ پریوارکی شاخ بجرنگ دل نے ماری کامبا کمیٹی سے رجوع کرتے ہوئے کہاکہ ماری کامبا جاترے میں ہندوئوں کو ہی دکانیں لگانے کاموقع دیاجائےا ور دوسرےمذاہب کے لوگوں کو اس جاترے میں شرکت کرنے کا تک موقع نہ دیاجائے۔ہندوتوا تنظیم کے دیندیال اور چنبسپاکی قیادت میں آج ماری کامباکمیٹی کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ اس تہوارمیں صرف ہندوئوں کواسٹال لگانے کا موقع دیاجائے۔اس دوران کافی بحث ومباحثہ ہوا۔اسٹال کا ٹھیکہ جس نے لیاتھااُس نے یہ کہہ کر اپنے ہاتھ پیچھے کرلئے کہ پہلے اس مسئلہ کو حل کردیاجائے پھربعدمیں ٹینڈ ر بلایاجائے۔ماری کامبا کمیٹی کے نمائندوں نے اس موقع پر کہاکہ ماری کامبا تہوار بھائی چارگی کا پیغام دیتاہے،مذہب کی بنیاد پر اُنہیں دیاجائے،اِ نہیں دیاجائے یہ کہنا درست نہیں ہے اور یہ ٹینڈر پیسوں کی بنیاد پر دیاجاتاہے۔اس پر ہندوتنظیموں نے کہاکہ تہوارمیں اسٹال لگنے چاہیے لیکن اسے صرف ہندوہی چلائیں،دوسرے مذہب والوں کو موقع نہ دیائے،اگر دوسروں کو موقع دیاجائے تو آج جو حالات شہرمیں ہیں وہی حالات دوبارہ پیدا ہونگے۔دیندیال نے مزیدکہا آدھے سے زیادہ اسٹال لگانے کیلئے ہم تیارہیں،اگر اس تہوارکیلئے مالی امداد درکارہے تو وہ رقم ہم چندہ اُٹھا کر دینگے۔اس موقع پر کمیٹی نے کہاکہ ہم اس رقم کو نیلامی کے ذریعے سے ہی حاصل کرینگے نہ کہ چندے کی صورت میں اکٹھا کرناہمارا رواج رہاہے۔بلآخر9لاکھ روپیوں کو ہندو تنظیموں نے یہ ٹینڈرحاصل کرلیا۔وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی یہ سوچ اب بھی برقرارہے کہ مارواڑی،سیٹھ،شیٹی کی دکان میں خریدوفروخت کرناہی ان کیلئے فائدہ مندہے۔کئی مسلم خواتین جان بوج کر مسلمانوں کے یہاں خریداری کرنے سے گریز کرتے ہیں۔واضح ہوکہ پچھلے دنوں جب ہرشاکے قتل کے بعد جو فسادات ہوئے تھے،ان فسادات میں مارواڑیوں نے اہم کردار اداکیاہے۔جو مارواڑی اب تک دروازے کے پیچھے سے کام کرتے تھے،اس دفعہ وہ کھلےعام مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کیلئے کھڑے ہوئے تھے۔کئی دفعہ اس سلسلے میں آگاہی کے باوجود مسلمان غیروں کے یہاں ہی خریداری کرنا فائدہ مند سمجھ رہے ہیں۔اب اس دفعہ ماری کامبا جاترے میں کس طرح سے مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے وہ غورطلب بات ہے ۔اسی دوران مسلم تاجروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دولت اکٹھاکرنے کی حرس میں آکر مسلمانوں کو دوسروں کے یہاں تجارت کرنے کا موقع نہ دیں۔چار پیسے اٗدھر چارپیسے اِدھرکی بنیاد پر تاجران کاروبارکرتے ہیں تو مسلم گاہک غیروں کے یہاں کیوں تجارت کرینگے؟جب تک ظالم قوموں کی مالی حالت کوتوڑا نہیں جاتا اُس وقت تک وہ اپنے ظلم میں کمی نہیں لائینگے۔کچھ ہی دنوں میں رمضان کامہینہ آنے والاہے ،مسلمان اس سمت میں غوروفکریں،اگر آپ کے سامنے رنگین اشتہارات وپروموشن بھی آتے ہیں تو آپ اُس پر غورنہ کرتے ہوئے اپنی عقل کااستعمال کریں۔سانپ کو جتنابھی دودھ پلائو وہ ڈسنا نہیں چھوڑیگا،ایک نہ ایک دن وہ کاٹ کرہی دم لیگا۔
