ماری کامبا جاترےبھائی چارگی کی علامت بننی چاہئے: محمد نیہال

ڈ سٹرکٹ نیوز
شیموگہ:شہر شیموگہ میں 22 سے 26 مارچ تک چلنے والے ماری کامبا دیوی کے جاترے میں کاروبار کرنے کیلئے تمام طبقات اور مذاہب کے لوگوں کو موقع دینا چاہئے۔ یہ جاتراشہر کا تہوار ہے جس میں تمام مذاہب کی ہم آہنگی اور مذہبی اتحادواتفاق کی علامت ہونی چاہئے ۔ اسکے لئےضلع انتظامیہ کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے سہولیات پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا مطالبہ سٹی کانگریس اقلیتی شعبے کے صدر محمد نہال (نیلو) نے اپنے ایک اخباری بیان کے ذریعہ کیا ہے۔ انہوں نےاپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ شری ماری کامبا ٹرسٹ کی جانب سے ہرسال جاترا منعقد کیا جاتارہا ہے اور اس تہوار میں کئی ساری دکانیں لگائی جاتی ہیںجس کیلئےٹینڈر پکارا جاتا ہے۔ ماضی میں ٹینڈر کے عمل میں تمام مذاہب اور طبقات کو بنا کسی تفریق کے اپنے شہر کا تہوار سمجھتے ہوئے بھائی چارگی اور اتحادو اتفاق اورمحبت وخلوص کے ساتھ منایا جاتارہا ہے۔یہاںتمام مذاہب کے لوگوں کو دکانیں لگانے کا موقع دیا جاتارہا ہے۔ لیکن اس بار کچھ الگ ہوا ہے۔ جاترا میں ہندئوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب والوں کو دکانیں لگانے کا موقع نہیں دیاجائے،یہ کہتے ہوئے گذشتہ روز ہونے والے ماری کامبا ٹرسٹ کی میٹنگ میں امن کوخراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ ماری کامبا جاترا ہمارے شہر کا معروف جاترا ہے یہ شہر کا تہوار ہے جسے کسی بھی مذہبی تفریق کے اب تک تمام نے مل کر منایا ہے اورخوشیاں بانٹیں گئی ہیں۔ لیکن گذشتہ روز ہوئی نشست میں کسی ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے جوکہ نا قابل قبول ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسلمانوں کے تہوار، جیسے رمضان، بقرعید میں دوسرے مذاہب کے لوگ یا ہندو اپنی دکانیں نہیں لگاتے ہیں یا اپنا کاروبار نہیں کرتے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مفادات کا خیال رکھنے والے عظیم شخصیت شری رام کے نام پر غریبوں کے پیٹ پر پتھر مارنے کا چھوٹا کام کچھ لوگ کررہے ہیں۔انہیں اپنی سوچ پر شرم آنی چاہئے۔ ضلع انتظامیہ کو فوری اس میں مداخلت کرتے ہوئے شری ماری کامبا ٹرسٹ کو ہدایت دینی چاہئے کہ وہ ماضی کی طرح جس طریقے سے جاترے کا اہتمام کرتی آئی ہے اسی طرح کا بندوبست اس بار بھی کرنے کاموقع دینے پر زو رڈالیں۔ بنا کسی تفریق کے شہر کے تہوار کو خوشی، امن ، محبت واتفاق ، آپسی یقین اوربھائی چارگی کی علامت بنانے پر محمد نیہال نے زور دیا ہے۔