سماجی کارکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد کانگریس پارٹی سے مستعفی 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
داونگیرے:۔ داونگیرے کے سماجی کارکن اورکانگریس پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر سی آر نصیر احمد نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مذکورہ اعلان کیا ۔ مزید بتایا کہ وہ حالیہ ملک و مقامی حالات کے پیش نظر انہوں نے کانگریس پارٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے ، اخباری نمائندوں کے بار بار ااصرار کرنے کے با وجود انہوں نے کانگریس پارٹی چھوڑنے کی کوئی واحد وجہ نہیں بتائی بلکہ کہا کہ سچار کمیٹی نے مسلمانوں کے حالات پر جو رِپورٹ تیار کی اس کو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار کے دو مرتبہ اقتدار میں آنے کے با جود پارلیمنٹ میں زیر بحث ٹیبل نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح سے حجاب کے مسلے پرپریانگا گاندھی نے کہا کہ یہ ان کی مرضی ہے وہ جو بھی کپڑے پہنیں اس میں کسی کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے لیکن اس وقت بھی کسی بھی کانگریس لیڈر نے رد عمل ظاہر نہیں کیا اور یہاں تک کہ ریاستی مہیلا وِنگ کی طرف سے بھی کوئی رد عمل نہیں آیا اس طرح سے کسی قوم کے ووٹوں کے لئے دوسری قوم کو نظر انداز کرنا اچھی بات نہیں ہے مزید انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کانگریس پارٹی میں سابق ریزستی وزیر ناگما کیشوا مورتی کی قیادت میں شمولیت حاصل کی تھی ماضی کے بڑے بڑے لیڈروں نے ان کا خوب ساتھ دیا سیاست کے ساتھ ساتھ انہوں نے سماجی خدمت گزاری کو کبھی نہیں چھوڑا آج بھی وہ سماجی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ اسی لئے مولانا آزاد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی کی جانب سے ہر سال غریب اسکولی بچوں میں کتا بیں قلم وغیرہ تقسیم کئے جاتے ہیں خصوصاً سرکاری اُردو اور کنڑ اسکولوں میں یہ کام انجام دیا جاتا ہے علاوہ اس کے امتحانات کے وقت بھی ساز و سامان بچوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں ، بتایا کہ اس مرتبہ 10؍ہزار سے زائد بچوں کو کتابیں و دیگر چیزیں تقسیم کی جائیں گی ، 28؍مارچ کو امتحانات کے ساز و سامان قلم رائٹنگ پیڈ وغیرہ تقسیم کئے جائینگے۔ اسی طرح انہوں نے مزید کہا کہ آج کے ماحول کے مد نظر مسلمانوں کو کسی ایک پارٹی پر منحصر نہیں ہونا چاہئے ، مسلمانوں کو سیاسی میدان میں کھل کر آنا ہوگا اور کھل کر ہی سیاست بھی کرنا ہوگا اور تمام پارٹیوں میں شمولیت حاصل کر کے اپنی قوم و ملت کے کے ساتھ ملک کے مستقبل کو سنوارنا ہو گا ، اگر کسی ایک پارٹی پر منحصر ہو جائینگے تو آنے والے دنوں میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لئے ہماری قوم کو سیاست کے معاملے میں آگے لیجانے کیلئے سوچ سمجھ کر قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے انہوں نے بتایا کہ وہ فی الحال تو کانگریس پارٹی چھوڑ چکے ہیں اور ان کے آئندہ کے فیصلے پر دوبارہ پریس میٹ کرینگے اور ان کے اگلے قدم پر تفصیل سے بات کرینگے ۔ اشاروں اشاروں میں انہوں نے موجودہ زیر اقتدار پارٹی کی طرف توجہ دہانی کی اور کہا کہ کسی ایک پارٹی میں کسی ایک قو م کے لوگ بے حد کم ہو جائیں تو توازن بگڑ سکتا ہے اور فرقہ واریت کا موقع مل جاتا ہے اسی لئے مسلمانوں کو کسی ایک پارٹی کے بجائے تمام میں کوشش کرنا چاہئے قوم اور دیش کیلئے کام کرنے کے جذبے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے ۔ اس موقعے پر برکت علی و دیگر افراد موجود رہے ۔