سادھو سنتھوں کی توہین کرنے والے سیاست سےخیر آباد کہہ دیں:ایشورپا 

ڈ سٹرکٹ نیوز
شیموگہ: اس ملک کی ثقافت کو بچانے والےسادھو سنتوں کےبارے میںتوہین آمیز بیان دینے والے سدارامیا کو سیاست سے سبکدوشی لے لینی چاہئے۔یا نہیں تو کانگریس کے سربراہوں کو چاہئے کہ وہ سدرامیا کو پارٹی سے نکال دیں۔یہ تنقیدی الفاظ وزیر برائے پنچایت راج کےایس ایشورپا کے ہیں ۔آج انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوامی جی کے لباس اور حجاب کا موازنہ کرنے والے سدارامیا کی ذہنیت پوری طرح سے ہندو مخالف ہے۔ یہ ریاست کی سیاسی تاریخ کا واحد سیاہ دھبہ ہے۔ انہوں نے صرف مثال نہیں دی ہے بلکہ وہ خود بھی پوری طرح ہندو مخالف بن چکے ہیں۔ کے پی سی سی کے صدر ڈی کے شیوکمار سدارامیا کے بیان کی مذمت کرنی چاہئے۔یا نہیں تو انکا استقبال کرتے ہوئے اس بات کو قبول کرلیں کہ وہ ہندومخالف ہیں۔ایشورپا نے سوال رکھا کہ اگر وہ ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے تو انہیں پارٹی سےبرخاست کر دیں۔ اسکول ، کالجوں میں یونیفارم پہن کرجانا ہے ، حجاب نہیں! یہ عدالت پہلے ہی واضح کرچکی ہے۔ اس سے بے خبر سدارامیا احمقوں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں ۔ ایشورپا نے کہا کہ ہندو ہی انہیں عقل کی تعلیم دیں گے۔سدارامیا کو آئین اور عدالتوںکا کوئی احترام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حجاب کی حمایت کر رہے ہیں۔عدالت کے حکم کو قبول نہ کرنے والی کچھ مسلم لڑکیوں نے تعلیم کو ترک کردیںگے لیکن حجاب نہیں اتاریں گے ایسی ضد لئے بیٹھی ہیں۔ ان بچیوں کو عقل سیکھانا کانگریس لیڈروں کو نہیں آیا۔ کالج کی انتظامیہ کمیٹی، حکومت کے حکم اور عدالت کے حکم کسی کو بھی قبول نہیں کررہے ان بچیوں کو عقل کی بات سیکھانے کی بجائے سب کچھ بی جے پی کے سر پر ڈالنے کی کوشش کریں گے تو خاموش رہنا ممکن نہیں ہے۔سدارامیا کے دور میں ریاست میں 23 ہندو مارے گئے۔ پھر وہ بتائیں کہ کتنے لوگوں کو معاوضہ دیا گیا ہے۔پریس کانفرنس میں میئر سونیتا انپا، ڈپٹی میئر شنکر گنی، سوڈا صدر این جی ناگراج، سلوچنا بھٹ، انپا وغیرہ موجودتھے۔