’جج کےتبصرے سے اتفاق نہیں‘
اتواریہ: شکیل رشید
مجھے دہلی کے جج کی بات سے اتفاق نہیں ہے۔
کوئی ’جرم‘ چاہے ’مسکراتے‘ ہوئے کیا جائے یا’بغیر مسکرائے‘ وہ ’جرم‘ ہی کہلائے گا۔ دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس چندر دھاری سنگھ کی سنگل بینچ نے ’ہیٹ اسپیچ‘ کے ایک مقدمے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مسکراتے ہوئے کچھ کہہ رہے ہیں تو یہ کوئی جرم نہیں ہے‘‘۔ حالانکہ انہوں نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ ’’اگر کوئی قابل اعتراض بات کہی جائے تو جرم ہوسکتا ہے‘‘۔ یہ بات فاضل جج نے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کی اس اشتعال انگیز تقریر پر ،جس کی وجہ سے دہلی فسادات کی بھینٹ چڑھی تھی، سماعت کے دوران کہی۔ یادرہے کہ انوراگ ٹھاکر نے کہا تھا کہ ’’دیش کے غداروں کو ،گولی مارو سالوں کو‘‘۔ اسے ’ہیٹ اسپیچ ‘یعنی ’نفرت پھیلانے والی تقریر‘ کہاجارہا ہے۔ اور یہ سچ بھی ہے کہ اس تقریر کے نتیجے میں ہی دہلی میں پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے تھے، مسلمان خاص نشانہ تھے۔ نشانہ اس لیے بنائے گئے تھے کہ وہ این آر سی اور سی اے اے مخالف تحریک کا علم بلند کیے ہوئے تھے۔ شاہین باغ میں خواتین کا احتجاج ساری دنیا میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا اور ساری دنیا اس بات پر تھو تھو کررہی تھی کہ وہ ملک جو خود کو ساری دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے وہیں ایک مخصوص فرقے کو ’شہریت‘ سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، جمہوریت کو دفن کیاجارہا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تحریک اور احتجاج کو کمزور کرنے کی نہ جانے کیسی کیسی کوششیں کی گئیں مگر ’شاہین باغ‘ مزاحمت کی ایک علامت بن گیا۔
سنگھیوں اور بھاجپائیوں کےلیے ’شاہین باغ‘ ایک چیلنج تھا۔ اس چیلنج کا سامنا جمہوری طو رپر کیاجانا چاہئے تھا لیکن بی جے پی صرف جمہوریت کا نعرہ ہی بلند کرتی ہے، جمہوری قدروں پر عمل نہیں کرتی۔ زہریلا نعرہ صرف اور صرف تشدد پھیلانے کےلیے لگایاگیا تھا، اور تشدد پھیلا۔ مجھے نہیں پتہ کہ انوراگ ٹھاکر نے مذکورہ نعرہ ’مسکراتے‘ ہوئے لگایا تھا یا ’بغیر مسکرائے‘ مگر اتنا جانتا ہوں کہ نعرہ انتہائی اشتعال انگیز تھا، نفرت سے پر اور اس کے ذریعے ایک مخصوص فرقے یعنی مسلمانوں کو ملک کا ’غدار‘ قرار دیاجارہا تھا اور لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف ’تشدد‘ کےلیے اُکسایاجارہا تھا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انوراگ ٹھاکر کا نعرہ، ان کی تقریر اور بیان مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے لوگوں کو اُکسانے والا تھا، اس لیے یہ ایک ’جرم‘ تھا۔ اب ہمارے فاضل جج کہہ رہے ہیں کہ ’مسکرا کر‘ کسی کو کچھ کہنا ’جرم‘ نہیں ہے۔ میں اسے ’جرم‘ ہی مانتا ہوں۔ اگر کوئی ’مسکرا‘ کر کسی کا قتل کردے ، کسی کے ہاتھ پیر توڑ دے، کسی کو انتہائی غلیظ گالیاں دے دے یا مال ہڑپ کرلے، تو ظاہر ہے کہ اسے ’جرم‘ ہی مانا جائے گا۔ خیر فاضل جج نے یہ بات تو مانی ہے کہ اگر کوئی قابل اعتراض بات ہوتو جرم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں ایک ایسا تبصرہ کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی جس سے عدلیہ پر کسی طرح کی انگلی اُٹھ سکتی ہو؟ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ انوراگ ٹھاکر کے معاملے میں جو فیصلہ عدالت عالیہ نے محفوظ کیا ہے وہ ان کے حق میں ہی ہے؟ یہ سوال اس لیے کہ عدالتوں کے کچھ فیصلے ایسے آئے ہیں جو انصاف کے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے۔ مثلاً کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب پر فیصلہ، یا پھر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گگوئی کا بابری مسجد پر فیصلہ، یا اس سے قبل طلاق ثلاثہ پر فیصلہ۔ ہمیں عدلیہ پر تو بھروسہ ہے لیکن کچھ ایسے منصف آگئے ہیں جو اپنے فیصلوں میں صاف صاف جانبدار نظر آتے ہیں۔ عدلیہ کو کیا نہیں پتہ کہ اسے غیر جانبدار ہوناچاہئے؟….
