سنگھ پریوارکی حلال مخالف مہم ،صرف مرغی بکرے کے ذبح تک محدود نہیں; ادویات،کھانے پینے کی اشیاء ،یہاں تک کہ بسکٹ و چاکلیٹ پر بھی ہے نظر!

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔پچھلے کچھ دنوں سے کرناٹک میں حلال اور جھٹکا گوشت کا معاملہ گرمایاہواہے لیکن چند ہی دنوں میں یہ معاملہ گوشت سے ہٹ کردیگر اشیاء کو لیکر بھی باوال کھڑایاجارہاہے۔حجاب کا معاملہ سرد پڑتے ہی کرناٹک میں حلال اور جھٹکا گوشت کے سلسلے میں بجرنگ دل،ہندوجاگرن سمیتی اور دیگرہندوتوا شر پسند تنظیموں نے حلال گوشت کے خلاف مہم شروع کی، اب انہوں نے ایک قدم آگےآتے ہوئے ادویات،کھانے پینے کی اشیاء،بسکٹ،چاکلیٹ ، مشروبات،توتھ پیسٹ اور پرفیومس کے علاوہ دیگر اشیاء پر بھی نشانہ لگانے لگے ہیں۔ہندوتوا تنظیموں کا کہناہے کہ جب اشیاء کی تیاری تمام مذاہب کیلئے ہے تو اس میں حلال کا لفظ کیوں استعمال کیاجارہاہے۔ان تنظیموں نے باقاعدہ طو رپر یہ کہہ کر لوگوں کوگمراہ کرنا شروع کیاہے کہ حلال سرٹیفائڈ اشیاء سے جو منافع ملتاہے وہ منافع حکومت کو نہیں جاتابلکہ مسلم تنظیموں اور اداروں کو جاتاہے،مزید ہندو تنظیمیں لوگوں کو یہ کہہ کرگمراہ کررہی ہیں کہ حلال اشیاء کے ذریعے سے مسلمان ایکنامک جہاد یعنی معاشی جہاد کررہے ہیں۔جہاد لفظ کا استعمال ہوتے ہی غیر متحرک لوگ بھی ہندوتوا تنظیموں کے اشاروں پر ناچنے لگے ہیں ۔ کرناٹک میں حلال و حرام اشیاء کے تعلق سے جوبیڑا اٹھایاگیاہے وہ سارے ملک میں تیزی کے ساتھ پھیلنے لگاہے اور بھارت اس وقت غیر ضروری مدعوں پر بحث زوروں پر ہے،وہیں جو کمپنیاں باقاعدہ حلال لفظ استعمال کررہے تھے وہ اپنے مارکیٹنگ منصوبے کی بنیاد پر اس لفظ کا ہٹانے کی تیاری میں بھی ہیں ۔حالانکہ گائے کے پیشاب سے مختلف اشیاء کوبنانے کیلئے مشہور پتنجلی نے بھی کچھ عرصہ پر اپنی اشیاء پر حلال لفظ کا استعمال کیاتھااور اس کمپنی کو جمعیۃ علماء ہند حلال ٹرسٹ کی جانب سے حلال ہونے کا سرٹیفکیٹ دیاتھا۔ بھارت میں ہندوجاگرن سمیتی نے کئی اشیاء کو بائیکاٹ کرنے کیلئے ایک فہرست بھی جاری کی ہے،جس کے مطابق سوشیل میڈیا پر مہم تیزی کے ساتھ چل رہی ہے ۔اس دوران کرناٹک حکومت نے بھی حلال گوشت کے خلاف شروع ہونے والی مہم پر غور کرنے کی بات کہی ہے اور حلال گوشت ودیگر اشیاءکو قانونی دائرے میں لاکر اس کیلئے قانون بنانے کی بات کہی ہے۔امکانات ہیں کہ جلدہی کرناٹک کی طرح دیگر ریاستوں میں بھی اس سلسلے میں قانون بنا کر مسلمانوں پر شکنجہ کسنے کی تیاری کررہے ہیں اور اس بات سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتاکہ مسلمانوں کے مذہبی رہنمائوں کی جانب سے قانون پاسداری کرنے کیلئے مسلمانوں کو نصیحت کی جانے لگے گی۔سوال یہ بھی ہے کہ ان ممکنہ حالات میں مسلمان کس طرح سے مقابلہ کر پائینگے؟۔