مالیگائوں 2008 بم دھماکہ معاملہ؛لاک ڈائون کی وجہ سے ٹرائل تھم گئی

سلائیڈر نیشنل نیوز

ممبئی:۔مالیگائوں 2008 بم دھماکہ معاملہ کی سماعت کرونا لاک ڈائون کی وجہ سے تھم گئی ہے، گواہوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ لاک ڈائون کی وجہ سے گواہوں کو سفر کرنے میں پریشانیاں ہیں لیکن جیسے حالات نارمل ہونگے گواہوں کو عدالت میں طلب کیاجائے گا۔یہ باتیں آج یہاں خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال نے عدالت میں کہی، اویناس رسال نے عدالت کو مزیدبتایا کہ ممبئی سے تعلق رکھنے والے بیشتر گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں، بقیہ گواہوں کا تعلق پونے، ایم اپی، یوپی اور دیگر ریاستوں سے ہے لہذا موجودہ حالات میں انہیں گواہی کے لیئے طلب کرنا مناسب نہیں ہوگا۔خصوصی این آئی اے جج پی آر سٹرے کو ملزم سمیر کلکرنی نے کہا کہ این آئی اے کو کوشش کرنا چاہئے کہ وہ گواہوں کو عدالت میں پیش کرے جس پر جج نے انہیںکہا کہ ہائی کورٹ کی گائڈلائن کے مطابق گواہوں کو عدالت میں آنے کے لیئے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔سمیر کلکرنی نے عدالت کو مزید کہاکہ پولس والوں کو ویکسین دیا جاچکا ہے لہذا گواہوں کی فہرست میں شامل پولس والوں کو گواہی کے لیئے عدالت میں طلب کرنا چاہئے ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل شاہد ندیم نے خصوصی جج کو کہاکہ یہ بات صحیح ہیکہ حالات سازگار نہیں ہیں لیکن جب حالات سازگار تھے تب بھی این آئی اے روزانہ گواہوں کو عدالت میں پیش نہیں کررہی تھی لہذا حالات سازگار ہوتے ہی عدالت این آئی اے کو حکم دے کہ وہ روزانہ عدالت میں ایک سے زائد گواہوں کو پیش کرنے کی کوشش کرے جس پر جج نے کہا کہ لاک ڈائوں میں نرمی ہوتے ہی وہ ا س تعلق سے حکم جاری کرینگے۔واضح رہے کہ ابتک خصوصی این آئی اے عدالت میں 176 سرکاری گواہان اپنے بیانات کا اندراج کراچکے ہیں اور سماعت روز بہ روز کی بنیاد پر جاری ہے لیکن کرونا کی وجہ سے گواہوں کے عدالت میں نہ آنے سے ٹرائل ایک بار پھر رک گئی ہے ۔ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجررمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کے خلاف قائم مقدمہ میں سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج کررہی ہے ۔