بنگلورومیں نوجوان کا قتل؛وزیرداخلہ نے معاملے کو توڑمروڑ کرپیش کرنےکی کی کوشش،بعدمیں معافی مانگی; کمارسوامی نے کہا وہ ہوم منسٹرنہیں مسخرہ ہیں

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کسی بھی ریاست میں امن وامان اور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہوتی ہے اور جو شخص وزیر داخلہ ہوتاہے اُس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے،لیکن کرناٹک میں شائد ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہاہے۔بنگلورومیں ایک نوجوان کا قتل آپسی رنجش کی بنیاد پر ہواتھا،جسے فوری طورپر وزیر داخلہ ارگا گیانیندرانے یہ کہہ کر ریاست میں سنسنی پھیلائی کہ چندرو نامی نوجوان آ ر ایس ایس سے تعلق رکھتاہے اور اس پر حملے کرنے والوں نے اسے اس وجہ سے ہلاک کیاہے کہ اُسے اردونہیں آتی تھی،لیکن کچھ ہی گھنٹوں میں وزیر داخلہ نے پھر ایک مرتبہ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ قتل آپسی رنجش کی وجہ سے ہواہے اور اردو کے حوالے سےنہیں ہواہے،میں نے جلدبازی میں غلط الفاظ کااستعمال کیااور مجھے ملنے والی اطلاعات کی بنیادپر میں نےاس قتل کو اردو زبان سے جوڑاتھا۔وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وزیر داخلہ اپنی ذمہ دارایوں کو بھول چکے ہیں،ایک ذمہ دار عہدے پر فائزرہ کر اس طرح کا بیان دینا ناقابل قبول ہے ،اس طرح کے بیانات مسخرے دیتے ہیں۔کمارسوامی نے کہاکہ گوری پالیہ کے نوجوان کا جس نے بھی قتل کیاہے اُس کے ملزمان کو سزادلوائی جائے۔انہوں نے مزیدکہاکہ وزیرداخلہ نے اپنے بیان کے دوران ہلاک ہونے والے نوجوان کو دلت نوجوان کے طور پر پہچان کروائی ہے نہ کہ اسے ہندو نوجوان کہاہے۔کیا دلت ہندو نہیں ہوتا۔ایک طرف دلت کے طورپر دلتوں کا استحصال کیاجارہاہے تو دوسری طرف اردو زبان کو جوڑ کر اقلیتوں کونشانہ بنایاجارہاہے۔