گداگری کے تعلق سے بیداری لانے کی اشد ضرورت،صحیح اور غلط کی دلائیں پہچان
شیموگہ:۔شیموگہ،بھٹکل اور دیگر کئی بڑےشہروں میں آج کل مسلمانوں کی خواتین کو مانگتے ہوئے دیکھاجارہاہے،گروہ در گروہ بناکر یہ تمام خواتین منظم طریقے سے بھیک مانگنے پر اترآئی ہیں،جبکہ ان خواتین میں 80 فیصد ایسی خواتین ہیں جو جوان یا ادھیڑ عمرکی ہیں اور کچھ کمسن بچیاں بھی برقعہ اوڑکر اپنی مائوں یادیگر عورتوں کے ساتھ بھیک مانگتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔جائزہ لینے پر ان میں سے کئی خواتین ضرورت،پریشانی یا پھر مجبوری کی حالت میں مانگنے کیلئے نہیں نکلی ہیں بلکہ پیسوں کی لالچ اور زیادہ کمائی کی ہوس میں ان لوگوں نے گداگری کو اپنایاہے۔شہروں میں مختلف دیہاتوں یا پھر شہروں کی ہی خواتین باقاعدہ طو رپر زکوٰۃ فطروں کا مطالبہ کرتی ہوئی دکھائی دےرہی ہیں،کئی خواتین جن کے گھروں میں مرد اور ان کے بچے بھی کمائی کررہے ہیں اُن سے آنکھ بچاکر مانگنے کیلئے نکل رہی ہیں۔لوگ ان خواتین کو مجبور یا لاچار سمجھ رہے ہیں،جبکہ کئی ایسی عورتیں بھی ہیں جن کے گھروں میں قیمتی موٹر بائک اور دیگر آرائش کے سازو سامان ہیں۔اگر مانگنے والی ان عورتوں پر لگام کسنے کیلئے مردوں کے ضمیر کو اجاگر نہیں کیاجاتاہے،اور گداگری کی لعنت کے تعلق سے بیداری لائی نہیں جاتی ہے تو آنے والے دنوں میں یہ عورتیں اپنی سستی و کاہلی کی بنیادپر غلط راہ اختیارکرنے سے بھی پیچھے نہیں جائینگی۔پچھلے چار پانچ سالوں سے اس طرح کی گداگری عام ہوچکی ہے اور یہ عورتیں برقعے بدل کر یا پھر اپنے گروہ میں سے کسی ایک کو الگ الگ مقام پرآگے پیچھےکرتے ہوئےگروہ میں سے کسی ایک خاتون کو متکلم بنا لیتی ہیں۔اس طرح سے یہ دھوکہ دیکر اچھی خاصی آمدنی کررہی ہیں۔غورطلب بات یہ بھی ہے کہ ان خواتین میں سے ہی بیشتر خواتین کے پاس اسمارٹ فون،اسمارٹ واچ وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں جس سے ان کی غربت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔کپتان،عربین اور امبریلا برقعے پہن کر آنے والی ان خواتین کو بھیک دیکر ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اُمت مسلمہ اپنے مال کو ضرورتمندبچوں کی تعلیم پر خرچ کریں تو اس کے موثر نتائج سامنے آئینگے،ورنہ ملت اسلامیہ مانگتی ہی رہے گی اور صاحب استطاعت افراد دیتے ہی رہیں گے ،لیکن مانگنے والوں کی کمی نہ ہوگی۔اس سمت میں مساجد میں بھی توجہ دلانے کی ضرورت ہے،خصوصاً اُن علاقوں میں جہاں کی عورتیں گداگری کیلئے نکل رہی ہیں او رمرد بے بس ولاچار یاپھر لالچ میں آکر خاموشی اختیار کرتے ہوئے خواتین کو گداگری کیلئے بھیج رہے ہیں۔
