دہلی: حجاب تنازعہ پر فیصلہ سنانے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں کو دھمکی دینے کے ملزم کی جانب سے داخل کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے بدھ کے روز نوٹس جاری کر دیا۔ ملزم رحمت اللہ کے خلاف تمل ناڈو اور کرناٹک دو دو مختلف ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ رحمت اللہ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے اپنے خلاف کرناٹک میں درج کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے یا اسے بھی تمل ناڈو میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جسٹس سنجیو کھنہ اور بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے کرناٹک اور تمل ناڈو کی حکومتوں سے اس سلسلہ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک اسلامی مذہبی تنظیم کے رکن رحمت اللہ کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر تمل ناڈو اور کرناٹک میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ کرناٹک کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں مختلف دفعات کے تحت جرائم کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ رحمت اللہ کو پولیس نے 19 مارچ کو تمل ناڈو میں ایک روز قبل درج کی گئی ایف آئی آر کے بعد گرفتار کیا تھا اور وہ تبھی سے جیل میں قید ہے۔عرضی میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ جن الزامات میں تمل ناڈو میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، انہی الزامات کے تحت کرناٹک میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عرضی گزار کا دعویٰ ہے کہ دونوں ایف آئی آر میں متوازی طور پر دو مختلف تفتیشی ایجنسیوں کی طرف سے تفتیش جاری رکھنا مناسب عمل کا غلط استعمال ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے ’’ایک الزام میں دو ایف آئی آر کے سلسلے میں دو مختلف ریاستوں میں مختلف عدالتوں/پولیس اسٹیشنوں سے رجوع کرنا میرے لیے ناممکن ہوگا اور عرضی گزار کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔چیف جسٹس رتوراج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم قاضی پر مشتمل کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے 15 مارچ کو کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی کو برقرار رکھا تھا۔ بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کی اس بنچ نے کلاسوں میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
