دہلی اور پنجاب کے بعد کرناٹک میں بھی حکومت بنائینگے:کیجریوال کا اعلان

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

بنگلورو:۔دہلی اور پنجاب میں حکومت بنانے کے بعد کرناٹک میں حکومت بنانے کا اعلان دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کیاہے۔انہوں نے آج بنگلوروکے نیشنل کالج میدان میں منعقدہ کسان سما ویش سے خطاب کرتےہوئے کہاکہ کرناٹک میں اس سے پہلے 20 فیصد کمیشن والی حکومت تھی،اب چالیس فیصد کمیشن والی حکومت اقتدارمیں ہے،لیکن دہلی اور پنجاب میں کسی بھی طرح کاکمیشن کا رواج نہیں ہے عوام یہی چاہے گی کہ کرناٹک میں بھی بغیر کمیشن والی حکومت اقتدارمیں آئے۔ہم دہلی اور پنجاب میں نہایت ایمانداری کے ساتھ حکومت چلارہے ہیں،اس وقت بھارت کو بدعنوانی سے بچانا بےحد ضروری ہے۔مزید انہوں نے کہاکہ میں نہایت ایماندارہوں،اس کا سرٹیفکیٹ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے دیاہے ، کیونکہ میرے گھر پر اب تک سی بی آئی،ای ڈی اور آئی ٹی کے محکموں نے چھاپے مارچکے ہیں مگر انہیں میرے گھر سے انہیں کچھ بھی دستیاب نہیں ہوا ہے ۔ مجھے سیاست کرنا نہیں آتالیکن مجھے عوام کے درد کو سمجھنا آتاہے اور میں ان کی خدمت کرنا جانتاہوں۔پانچ سالوں میں میں نے دہلی کے اسکولوں کی حالت بدل دی ہے، امسال چار لاکھ نجی اسکولوں کے طلباء سرکاری اسکولوں میں داخلہ لے چکے ہیں،یہی نہیں بلکہ سرکاری اسپتالوں کی حالت بھی خراب ہوچکی تھی،اب حالات پوری طرح سے بدل چکے ہیں،ہمارے یہاں سرکاری اسپتالوں میں تمام امراض کیلئے مفت علاج کیاجارہا ہے ،یہ سب ہم نے اس لئے اس وجہ سے کردکھایاہے کہ ہم ایماندارہیں ، جس ایمانداری سے پیسے بچائے گئے ہیں اُسے تعلیم ،صحت ،بجلی،پانی پر خرچ کیاجارہا ہے اور عوام کو مفت سہولیات دی جارہی ہے۔ہمیں غنڈہ گردی کرنی نہیں آتی لیکن اسکول بنانا آ تا ہے ، ہمیں رشوت کھانی نہیں آتی لیکن اسپتالوں میں مفت علاج مہیا کروانا آتا ہے ، اس لئے لوگوں نے عام آدمی پارٹی کا انتخاب کیا ہے ۔ اس موقع پر کرناٹک کے کئی اہم شخصیات نے عام آدمی پارٹی میں شمولیت حاصل کی،جس میں رئیتر سنگھا کے کوڈی ہلی چندرشیکھر،سابق کے اےایس افسر کے متھائی، ماہرِ زراعت پرکاش کماریڈی، بسواراجپا وغیرہ شامل تھے ۔ پارٹی میں شمولیت کے دوران اروند کیجریوال نے کہاکہ ملک میں غنڈوں، بدعنوانوں اور زانیوں کی حکومت چل رہی ہے،اس لئے جو ان چیزوں سے مطمئن ہیں وہ اُس پارٹی میں شامل ہورہے ہیں،ملک میں جہاں کہیں بھی ریپ ہو اُس ملزم کا جلوس نکال کر وہ پارٹی اُسے اپنا کارکن بنالیتے ہیں،اسی طرح سے غنڈوں اور بدعنوانوں کو بھی بی جے پی میں شمولیت کیلئے اولین ترجیح دی جاتی ہے۔اگر ایسے لوگ اقتدارپر رہیں گے تو ملک کا بھلا کیسے ہوگا۔