مسجدوں میں زبردستی چندہ وصولی کرنا کہاں تک درست ہے: حنفیہ مسجد کے مصلی کا سوال

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ : شیموگہ شہر کے الیاس نگر میں موجود حنفیہ مسجد میں رمضان کے چندے کے نام پر زبردستی چندہ وصول کیا جارہا ہے،مسجد کے لئے چندہ وصولی کرنا کہاں تک درست ہے۔ یہ سوال مسجد کے مصلی محمد ذبیع اللہ نے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام لوگوں کی مالی استطاعت ایک جیسی نہیں ہوتی اور تمام ایک ہی سطح کا چندہ نہیں دے سکتے لیکن حنفیہ مسجد میں جس طرح سے ایک ہزار روپئے کا چندہ لازم قرار دیا گیا ہے وہ سمجھ سے باہر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دو سو روپے اپنے لحاظ سے چندہ کے طور پر ادا کئے تو اس رقم کو واپس کردیا گیا ہے جس سے مجھے شدید دکھ ہواہے،اللہ کے گھر کے خادم ہوکر کمیٹی والوں کا یہ برتاؤ کہاں تک درست ہے اسکا اندازہ نہیں ہے۔ کیا مسجد کا چندہ بھی زکوٰۃ اور فطرے کی طرح طئے ہے، اگر نہیں ہے تو اس سلسلے میں کیوں زبردستی کی جارہی ہے ۔ ہم کمیٹی والوں سے اس اطلاع کے ذریعے گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ اپنے رویہ کو بدل کر مسجد کو اللہ کا گھر رہنے دیں نہ کہ زبردستی کا مرکز بنا ئیں ۔