حجاب،فسادات پر خاموش رہنے والے کانگریسی لیڈران عیدگاہ میں بنے ہوئے تھے صفِ اول کے نمازی،کیا مسلمان اب بھی کررہے ہیں ان کی غلامی
شیموگہ:۔شہرمیں پچھلے دنوں ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات کے بعد محکمہ پولیس نے لاء اینڈ آرڈرکے نام کو برقرار رکھنےکےنام پر ہر دن شام کے اوقات میں مسلم محلوں میں ہوٹل،کینٹین اور دیگر تجارتی مراکز کو شام سات بجے ہی بندکرنے کی پہل کی ہے،اس سے لاء اینڈ آرڈر اس قدر اور کس حدتک بہترہواہےاس کا اندازہ تو نہیں ہے،البتہ شہرکے مسلم تاجران اپنی دُکانوں کوبندکرنے کی وجہ سے سخت پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں ۔ تاجروں کا کہناہے کہ جن علاقوں میں شر انگیزی یا پُرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں وہاں پر پولیس اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے بجائے شہرکے تمام مسلم محلوں میں سختی برت رہی ہے،جس کا خمیازہ عام لوگوں کو اٹھاناپڑرہا ہے ۔ جبکہ شہرکے دوسرے سرے پر جہاں غیر مسلم آبادی ہے وہاں پر کسی بھی طرح کی سختی نہیں ہے،عوام یہ سوال کررہے ہیں کہ کیا صرف مسلم محلوں میں ہی شر انگیزی دکھائی دے رہی ہے؟اورغیر مسلم کیاسدھرکے سُتریاں ہوچکے ہیں؟۔وہیں مسلمانوں کے ان مسائل پر آواز اٹھانے کیلئے شہرکے تمام نام نہاد لیڈران خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں اوراگلے انتخابات میں اپنے آ پ کو لیڈروں کے طو رپر پیش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔عوام کی طرف سے یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ کانگریس ،جے ڈی ایس کے لیڈران اب تک حجاب،فسادات،لائوڈ اسپیکر جیسے مسائل پر آوازاُٹھانے سے قاصررہے ہیں،وہ پچھلے دنوں عیدالفطرکی نمازکے دوران صفِ اول میں کھڑے ہوکر مسلمانوں کے ساتھ نمازی ہی نہیں بلکہ غازی کے طو رپربھی اپنے آپ کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔سوال یہ ہے کہ جو لوگ حجاب ، اذان جیسی بنیادی معاملات پر کُھل کر مخالفت نہیں کررہے ہیں اور مسلمانوں کے حق میں آگے نہیں آتے ہیں،کیااُن کا عید کی نماز میں صفِ اول میں کھڑے ہونے سے حق اداہوجاتاہے ؟ ۔ عوام میں ان باتوں کو لیکر سخت برہمی دکھائی دے رہی ہے اورکہا جارہا ہے کہ یہ سب چھچوری حرکتیں بعض سیاستدانوں کو خوش کرنےا ور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے خودساختہ مسلم لیڈران کرواتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کی سیاسی،ملّی اور مذہبی قیادت کمز ور ہورہی ہے وہیں پولیس ان کمزوریوںکو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر حاوی ہورہی ہے تو کچھ لوگ جو کبھی قوم کے دلال بنتے ہیں تو کبھی پولیس کے مخبر بنتے ہیں وہی اپنے آپ کو مسلمانوں کے لیڈرکے طو رپر پیش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آخر شیموگہ کے لوگ کب کسی ایک کو قابل لیڈر بنانے کیلئے فکرمندہوتے ہیں؟ اور کس طرح سے مسلمانوں کے مسائل کو ایوانوں تک لے جانے کیلئے کمربستہ ہوتے ہیں۔
