شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔غیرمناسب پراپرٹی ٹیکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آج شیموگہ ناگریکاہتا رکشنا ویدیکے نے ڈسٹرکٹ کامرس اینڈ انڈسٹری اسوسیشن اور مختلف تنظیم واداروں کے اشتراک سے آج سٹی کارپوریشن دفتر کو گھیرنے کی کوشش کی، لیکن کارپوریشن کے مین گیٹ کو ہی بند کرتے ہوئے پولیس کی مدد سے مظاہرین کو روک دیا ہے۔ اس دوران مظاہرین نے شدید برہمی وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نامناسب طریقہ کار سے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کئے گئے ہیں جبکہ یہ حکام اس بات سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں کہ اس وقت کوویڈ وبا کے بدترین حالات جاری ہیں اورایسے میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافےکا فیصلہ عوام کو پریشان کرنا اورانہیں برباد کرنااورکچھ نہیں کہتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ آفات میں آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، تمل ناڈو اور گجرات جیسی ریاستوں میں ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے لیکن صرف کرناٹک میںہی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹیکس میںاب تک 100 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اگر مستقبل میں ٹیکس کی رقم ادا کرنے کیلئے لوگوں کو اپنی ملکیت فروخت کرکےادا کرنے کی نوبت آسکتی ہے لیکن اس پر بھی کوئی حیرت نہیں ہوگی۔ لوگ پہلے ہی کورونا کی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس صورت میں ٹیکس کو منسوخ کرنا چاہئے تھا لیکن اسکے برعکس ہوا ہے ۔کارپوریشن حکام کہتے ہیں کہ ٹیکس میں اضافہ حکومت کی پالیسی ہے۔ مظاہرین نے ایس آر کی قیمت کو مقرر نہیں کرنےکا دبائو ڈالاہے۔ اس موقع پر سٹی میئر سمیت تمام اراکین نے مظاہرین کے درمیان پہنچ کر مطالبہ قبول کیا ۔ درخواست قبول کرتے ہوئے میئر سنیتا انپا نے کہا کہ 60 فیصد شہری پہلے ہی ٹیکس ادا کر چکے ہیں اورکارپوریشن انہیں ٹیکس ادا کرنے پر مجبور نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں حکومت کو یاددہانی کرائی جائیگی۔
