سنگاپور:۔سنگاپور نے بالی ووڈمتنازعہ فلم دی کشمیر فائلز پر پابندی لگا دی ہے۔ سنگاپور کی حکومت نے کہا ہے کہ اس فلم میں مسلمانوں کو منفی طور پر پیش کیا گیا اور حقائق کو یکطرفہ طور پر بیان کیا گیا ہے۔سنگاپور کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فلم کی نمائش سے ملک میں مسلم اور ہندو کمیونٹیز میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ فلم بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہندؤں کے انخلا سے متعلق ہے۔واضح رہے کہ یہ وہی فلم ہے جس کی پی ایم نریندر مودی تعریف کر چکے ہیں۔ بھارت کے انتہائی دائیں باز وکے ہندو قوم پرست افراد جو مودی کے سب سے بڑے حامی ہیں وہ بھی اس فلم کے مداح ہیں۔ یہ فلم بھارتی سنیما میں باکس آفس پر سپر ہٹ ہوئی ہے۔ تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ فلم مسلمان مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہے اور معاشرے میں تقسیم کا سبب بن سکتی ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پی ایم مودی کی قیادت میں مسلمان مخالف جذبات بڑھے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ایسے قوانین نافذ کیے گئے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ معتصبانہ رویے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔سنگاپور کی حکومت نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ اس فلم کی نمائش پر اس لیے پابندی عائد کی گئی ہے کیوں کہ اس میں مسلمانوں کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے ان کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلم میں مسلمانوں کو اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہندوؤں کے انخلاء سے متعلق حقائق کو یک طرفہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سنگاپور کی حکومت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اس فلم میں مسلمانوں کی جس انداز میں نمائندگی کی گئی ہے اس سے مختلف کمیونٹی میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے جس سے سنگاپور میں،جو ایک کثیر مذہبی اور کثیر النسلی ریاست ہے، سماجی رابطے اور مذہبی ہم آہنگی متاثر ہو گی۔ سنگاپور 5.5 ملین افراد پر مشتمل ریاست ہے۔ یہاں چینی، مسلمان، مالے اور ہندو آباد ہیں۔ اس جنوب مشرقی ریاست میں نسلی اور مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے خلاف سخت قوانین ہیں۔بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سن 1989 میں پر تشدد علیحدگی پسند بغاوت کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں کئی ہندوؤں نے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا اور وہ بھارت کے دیگر علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ اس 170 منٹ طویل فلم کے مداحوں کا کہنا ہے کہ اس فلم میں کشمیر کی تاریخ کا وہ پہلو دکھایا گیا ہے جسے میڈیا عام طور پر نظر انداز کر دیتا ہے۔ دوسری جانب بہت سے افراد اس فلم کو نریندر مودی کی مسلمان مخالف مہم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
