بنگلورو:۔ کرناٹک میں اس وقت مندر مسجد،اذان،حجاب کا معاملہ خوب تیزی کے ساتھ چل رہاہے،حکومت چُن چُن کر مندروں کو تلاش کررہی ہے،وہیں جسم چھپانے کیلئے استعمال کئے جانے والے حجاب کو ہٹانے کیلئے پابندرہنے کا دعویٰ کررہی ہے،مگر اسی حکومت کی جو ذمہ داری بچوں کوبروقت یونیفارم اور تغذیاتی غذادینے کی تھی اُس ذمہ داری کو پورا کرنے میں حکومت ناکام ہوئی ہے۔ریاست کے چار اضلاع جہاں پر تغذیاتی غذاکی قلت کی وجہ سے سات لاکھ بچے متاثرہیں،اُنہیں اب تک دوپہر کے کھانے میں انڈے اور دیگر تغذیاتی غذا میسرنہیں ہے۔بلاری،بیدر، گلبرگہ، کوپل، یادگیر،وجئے پور اور وجئے نگر ضلع کے سرکاری اور نیم سرکاری اسکولوں کے پہلی تا آٹھویں جماعت کے بچوں کوروزانہ دوپہر کے کھانے میں اُبلے ہوئے انڈے دینے کیلئے محکمہ تعلیم عامہ نے احکامات جاری کئے تھے،لیکن باگل کوٹ سمیت چار اضلاع کے بچوں کو اب تک انڈا کھانا نصیب نہیں ہواہے۔اسکولوں کاآغاز ہوئے کم وبیش دو ہفتے مکمل ہوچکے ہیں،لیکن اب تک بچوں کویونیفارم نہیں ملاہےا ور نہ ہی تدریسی کتابیں موصول ہوئی ہیں۔تدریسی کتابوں کو سراز نو تشکیل دینے کے سلسلے میں جو اعتراضات چل رہے ہیں اُسی دوران محکمہ تعلیم عامہ بچوں کو تغذیاتی غذا فراہم کرنے کیلئے مرکزی حکومت سے مالی امداد حاصل کرنے میں ناکام ہوا ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے طئے شدہ مالی امداد کے استعمال سے محدود ایام اور محدود اضلاع میں ہی اُبلے انڈے دئیے جاسکتے ہیں نہ کہ دیگر اضلاع میں اس کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔موجودہ داخلاتی شرح کے مطابق چار اضلاع میں120 دنوں کیلئے اس منصوبے کو رائج کرنے کیلئے 192.82کروڑ روپئے درکارہیں،لیکن اس سفارش کو محکمہ تعلیم عامہ نے مستردکردیاہے۔صرف آٹھ ضلعوں کے 15.29لاکھ بچوں کو اُبلے ہوئے انڈے دینے کیلئے حکومت نے4405.57لاکھ روپئے کی مالی امداد منظور کی ہے او ریہ صرف24 ہفتوں کیلئے محدودہے۔اس کے علاوہ حکومت نے گدگ،ہاویری،باگل کوٹ،چامراج نگر ضلع کے نویں تا دسویں جماعت کے بچوں کیلئے اُبلے ہوئے انڈوں کی اسکیم کیلئے کسی بھی طرح کی مالی امدادجاری نہیں کی ہے۔محکمہ تعلیم عامہ نے باگل کوٹ سمیت دیگر چار اضلاع میں بھی انڈے تقسیم کرنے کا مطالبہ رکھاتھا۔غورطلب بات یہ ہے کہ گلبرگہ،وجئے پور،بیدر سمیت چھ اضلاع میں تغذیاتی غذا کی قلت کی وجہ سے بچے متاثر ہورہے ہیں،ایسے میں ان اضلاع کیلئے انڈوں کی اسکیم جاری نہیں ہوئی ہے۔بتایاجارہاہے کہ ریاست میں 32 فیصد کے قریب بچے طئے شدہ وزن اور نشونما سے محروم ہیں،45فیصد اور مائیں خون کی کمی کا شکارہیں،اس لئے ان بچوں اور خواتین کوبروقت تغذیاتی غذا یعنی نیوٹریشنل فوڈ دینے کیلئے ماہرین نے تجویز پیش کی تھی،لیکن ایسالگ رہاہے کہ حکومت ان کی تھالیوں کوخالی رکھ رہی ہے۔دریںا ثناء کرناٹکا حکومت نے اسکولی بچوں کو بائیسکل دینے کیلئے جو اعلان کیاتھا وہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوسکتاہے ،کیونکہ حکومت کے اس منصوبے کو محکمہ مالیات نے مسترد کردیاہے۔محکمہ مالیات کا کہناہے کہ اس وقت حکومت کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہے کہ وہ اسکولی بچوں کو بائیسکل دے۔
