دہلی:۔ ملک کے کئی حصوں میں موسلادھار بارش اور سیلاب کا سلسلہ جاری ہے۔ موسلا دھار بارش اور سیلاب کئی علاقوں میں لوگوں کے لیے تباہی بن گئے ہیں۔ دہلی میں دریائے یمنا میں تیزی ہے جس کے بعد انتظامیہ چوکس ہے۔ ہریانہ کے کئی اضلاع میں سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اگر پانی کی سطح اسی طرح بڑھتی رہی تو کرنال، یمنا نگر، پانی پت اور سونی پت میں بھی نقصان ہوسکتا ہے۔سیلاب کے خطرے کے پیش نظر بیراج سے نکلنے والی نہروں کو پانی کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔ جمنا ندی کے پانی کی سطح میں اضافہ کے سبب دہلی میں انتظامیہ چوکس ہے۔ دوسری جانب مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے کچھ علاقوں میں موسلادھار بارش کے بعد لوگوں کی مشکلات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔کئی دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سیلابی پانی نشیبی علاقوں میں داخل ہو گیا ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے کچھ علاقوں میں بھی موسلادھار بارش کے بعد ندی میں پانی پھوٹ پڑا۔رتلام سے راج گڑھ تک گزشتہ 24 گھنٹوں سے کہرام برپا ہے۔ راج گڑھ میں دکانوں سے لے کر چوکوں اور گلیوں تک پانی بھر گیا ہے۔ لوگ 48 گھنٹوں سے راج گڑھ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ محلے میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے، جہاں پانی کا قبضہ نہ ہو۔دو دنوں سے جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے اجنار ندی میں طغیانی ہے۔ یہی نہیں طوفانی بارش کے بعد رتلام، بیتول اور مندسور میں بھی سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں مندسور شمشان گھاٹ کے قریب ایک چھوٹے سے پل سے بھی پانی بہتا ہوا دیکھا گیا۔سیلاب کی وجہ سے وہاں بنائے گئے چھوٹے مندر بھی پانی میں آدھے ڈوبے نظر آئے۔ اسی دوران ڈنڈوری میں شدید بارش کے بعد وہاں سے گزرنے والی نرمدا ندی نے بھیانک شکل اختیار کر لی، جس کی وجہ سے گھاٹوں پر بنے کئی مندر پانی میں ڈوب گئے۔دو دن کی بارش میں مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری میں نرمدا ندی کی لہروں نے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ پانی کی بے قابو رفتار ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے بے چین ہے۔ اس کے علاوہ نرمدا سے متعلق دیگر ندیوں میں بھی تیزی ہے جس کی وجہ سے کئی مقامات پر سڑکوں پر پانی آگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چھتیس گڑھ میں سیلاب کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر بستر میں بچے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اسکول جانے پر مجبور ہیں۔اگر آپ پانی میں چلتے ہوئے تھوڑا سا قدم بھی لڑکھڑاتے ہیں تو زندگی مشکل میں پڑ سکتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے اس گاؤں کی حالت کئی سالوں سے خراب ہے۔ دریا میں ڈوبنا یہاں کے لوگوں کا مقدر بن چکا ہے۔بستر سے دو دن پہلے بھی سیلاب کی کچھ خوفناک تصویریں سامنے آئی تھیں۔ کئی علاقے زیر آب آگئے۔ دوسری جانب جگدل پور میں ایک ریزورٹ کی باؤنڈری وال مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی۔ ریزورٹ کی نچلی منزل پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ہر طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا تھا۔وہیں دہلی میں یمنا ندی خطرناک سطح کے قریب پہنچ گئی ہے جس کے بعد انتظامیہ چوکس ہے۔ بتایا گیا کہ ہتھینی کنڈ بیراج سے یمنا ندی میں مسلسل پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ ہریانہ کے یمنا نگر میں ہتھنی کنڈ بیراج سے چھوڑے جانے والے پانی کی وجہ سے دہلی میں بھی خوف کا ماحول ہے۔دہلی کے نشیبی علاقوں میں طوفان کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دہلی انتظامیہ نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ جمنا کے کنارے رہنے والے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
