حجاب کے تعلق سے طالبات تبدیلی لائیں،بھارت کی تہذیب کو اپنائیں:ایشورپا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔منگلورومیں حجاب پہن کر کالج جانے کی کوشش کرنے والی مسلم طالبات کا طریقہ درست نہیں ہے۔کرناٹکا ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے حجاب کے سلسلے میں جو ضوابط بنائے ہیں اُن ضوابط پر عمل کرنا ہر ایک شہری کافرض ہے۔طالبات حجاب کے تعلق سے تبدیلی لائیں اور بھارت کی تہذیب کو اپناتے ہوئے ہائی کورٹ کے احکامات کامانیں۔اس بات کااظہار سابق ریاستی وزیر کے ایس ایشورپانے کیا ہے ۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ حجاب کے تعلق سے مسلم لڑکیوں میں بیداری لانے کیلئے مسلم قائدین کوآگے آناہوگا اور اُنہیں بھارت کی تہذیب کو اپنانے کیلئے رہنمائی کرنی ہوگی۔ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود اب بھی طالبات حجاب پہن کر اسکول وکالج جانے کیلئے بضدہیں،مگر ان طالبات کو یہ موقع نہیں دیاجائیگا۔مزید انہوں نے کہاکہ اسکولی نصاب کی کتابوں میں آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیگڈیوار کے متن کو شامل کرنے کا دفاع کیا ہے۔ اعتراض کرنے والوں سے سوال کیا کہ کیا اسکول کی کتابوں میں جناح (بانی پاکستان) کی عبارت کو شامل کیا جانا چاہیے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 36 ہزار مندروں کو گرا کر مساجد بنائی گئیں ہیں جنہیں  قانونی جنگ سے واپس لیاجائیگا۔ایشورپا نے کہا کہ ہیگڈیوارکی تقاریر پر مبنی متن کو شامل کرنے کا مقصد ملک کی ثقافت اور حب الوطنی کو تقویت دینا ہے ۔ایشورپا یہیں نہیں رکے، انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں36 ہزارمندروں کو تباہ کرنے کے بعداُن جگہوں پر مسجدیں بنائی گئی ہیں۔ انہیں کہیں اور مسجد بنا کر نماز پڑھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن ہم انہیں مندروں پر مسجدیں بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔ ہندو ان تمام 36000 مندروں پر قانونی طور پر دعویٰ کرینگے۔واضح ہوکہ کرناٹک میں حجاب کو لیکرپھر ایک مرتبہ معاملہ گرمایاہے،منگلورو یونیورسٹی میں حجاب پہننے کو لیکر سنڈیکیٹ نے نئے ضوابط جاری کرتے ہوئے طالبات کو حجاب پہننے سے روک دیاہے۔