تحریر: محسن رضا ضیائی، پونہ9921934812-
ہمارے ملکِ ہندوستان میں روز بہ رووزحضور خاتم النبین ﷺکی شانِ اقدس میں گستاخیاں، ہرزاسرائیاں اور انگشت نمائیاں ہورہی ہیں۔ ان تمام گستاخیوں کو روکنے کے لیے یاتو ہم گستاخانِ رسول پر مقدمات کرتے ہیں، ان کے خلاف پُر زور احتجاجات کرتے ہیں یا پھر جذباتی تقاریر کرکے خلوت نشیں ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی اس حوالے سے نہیں سوچتا ہے کہ ہر آئے دن ہورہی ان تمام گستاخیوں کی روک تھام اور انسداد کے لیے کیا لائحہ ٔعمل ہونا چاہیے، کس طرح سے اس کا تدارک وحل تلاش کرنا چاہیے اور اس طرح کے بے لگام لوگوں پر کس طرح لگام کسنا چاہیے۔
یاد رکھیں کہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺہمارے لیے جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگرحضور خاتم النبیین ﷺکی عزت و ناموس کی خاطر ہمیں جان بھی دینا پڑ جائے تو اس میں کوئی تردد و شبہ نہیںچاہیے،بلکہ ایک نہیں اگر ہزاروں جانیں بھی ہوںتو ایک ایک کرکے قربان کرتے چلے جائینگے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ ہمارے دلوں میں عشقِ رسولﷺ کی شمع روشن کر گئے اور یہ پیغام دے گئے جو آج بھی ہمارے سینوں میں موجود ہے:
کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
ہمارا ایمان و عقیدہ تو محبت وعشقِ رسولﷺ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔خود حضورخاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب (یعنی پیارا) نہ ہو جاؤں۔ (بخاری،ج1،ص17، حدیث:15)
المختصر یہ کہ تحفظ ناموسِ رسالت کا مسئلہ ہمارے لیے بہت ہی حسّاس اور اہم ہے۔ لہذا اس فتنۂ ٔعظیم کی روک تھام کے لیے وقتی جذباتیت اوربے جا مصلحت سے پرے ہوکر غوروخوض کرنے اور اسکا مکمل حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر میرے خیال سے دیکھا جائے تو ان تمام گستاخیوں اور ان جیسے رزیل لوگوں کے پسِ پشت فتنۂ استشراق موجود ہے، یہ انہیں کا بُنا ہوا جال ہے ، یہ سب انہیں کا پیدا کردہ فتنہ ہے، جو کچھ سالوں سے ملک کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے۔ اسی فتنۂ استشراق سے متأثر ہوکر اغیار جہاں پیغمبرِ اسلام کی توہین کاارتکاب کررہے ہیں، وہیں اسلام اور مسلمانوں کو پہ در پہ بدنام کرنے کی نازیبا حرکات بھی انجام دے رہے ہیں۔
آئیے اِس فتنۂ استشراق کے بارے میں اختصار کے ساتھ کچھ جاننے کی سعی و کوشش کرتے ہیں۔
یہ مغربی استعمار کی ایک تحریک ہے، جو گذشتہ کئی صدیوں سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بہت ہی زیادہ متحرک ہے، جس کا مقصد پیغمبرِ اسلام ﷺکی تعلیمات و ہدایات کو مسخ کرنا، قرآن و احادیث کی غلط تشریح و تعبیر دنیا کے سامنے پیش کرنا، اسلامی اقدار و روایات میں قطع و بیونت کرنا، مغربی افکار ونظریات کا مسلمانوں میں نفاذ کرنا اور ان جیسے اور بھی ایجنڈے اور منصوبے ہیں، جس پر وہ کئی صدیوں سے کام کررہے ہیں۔
استشراق کے بارے میں ڈاکٹر احمد غراب لکھتے ہیں :
’’استشراق، کفار اور اہل کتاب کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مختلف موضوعات مثلاً عقائد و شریعت، ثقافت، تہذیب، تاریخ اور نظامِ حکومت سے متعلق کی گئی تحقیق اور مطالعہ کا نام ہے جس کا مقصد اسلامی مشرق پر اپنی نسلی و ثقافتی برتری کے زعم میں مسلمانوں پر اہلِ مغرب کا تسلّط قائم رکھنے کے لیے ان کو اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کرنا اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنا ہے‘‘۔(رؤیۃ الاسلامیۃ للاستشراق)
مستشرقین روزِ اول ہی سے اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں لگے ہوے ہیں، جس کے اثرات و نتائج آج پوری دنیا میں دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں۔اسلام اور اس کی معزّزشخصیات کے حوالے سے اس کے اہداف و مقاصدبڑے ہی خطرناک ہیں۔چناں چہ ڈاکٹر حافظ محمد زبیراس سلسلے میں رقم طراز ہیں؛
’’مغرب میں اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا اور عیسائی دنیا کو مسلمان ہونے سے بچانا بھی تحریکِ استشراق کے اہم مقاصد میںسے ہے۔ اس مقصد کے تحت مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے اپنی تحقیقات کے ذریعے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں اہلِ یورپ کے دلوں میں نفرت،بغض اور تعصب کو جنم دیا۔‘‘ (تحریکِ استشراق کا تعارف،ص:۱۳)
متذکرہ بالا اقتباس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کس قدر مستعد و سرگرمِ عمل ہیں۔اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ملکِ ہندوستان میں ہر آئے دن گستاخیوں کی باڑ آرہی ہیں، جنہیں روک پانا انتہائی مشکل ہوتا جارہاہے۔ آپ ذرا مستشرقین کے ان کاموں پر نظر ڈالیں اور دوسری طرف دنیا بھر میں ہورہی گستاخیوں کو دیکھیں تو تصویر صاف ہوجاتی ہے کہ یقیناً ان تمام گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں میں مستشرقین صد فی صد شامل ہیں، جو مخالفین کو فکری و نظریاتی مواد فراہم کرتے ہیں۔ لہذا ملک بھر میں ہورہی گستاخیوں کو روکنے اور اس پر قدغن لگانے کے لیے ضروری ہے کہ مستشرقین کے افکار ونظریات کی ترویج و اشاعت کو روکا جائے، انہوں نے اسلام اور شخصیاتِ اسلام کے حوالے سے جو غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پھیلا رکھی ہیں، انہیں فوری دور کیا جائیں، اسلام کے خلاف مستشرقین کے ذریعے کیے گئے اعتراضات و اِشکالات کا مدلل و مبرہن جواب دیا جاے۔ اس کیلئےایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم گستاخوں کے رد و ابطال میں جلسے اور احتجاجات کے نام پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپیے خرچ کردیتے ہیں، پھر بھی ہزاروں کوششوں اور جتنوں کے باوجود ناکام ہوجاتے ہیں، وہیں اگر مختلف زبانوں پر عبور رکھنے والے قلم کار علما و دانشوران کی ایک منظم ٹیم تیار کی جائیں، جو مروّجہ زبانوں میں مستشرقین کے جہاں اعتراضات و اِشکالات کا دندہ شکن جواب دیں، وہیں یہاں کے غیر مسلموں میں اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں عام ہیں، ان کا بھی ازالہ کریں تو یہ قدم گستاخیوں کو روکنے میں سب سے زیادہ ممدّ و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخبار ورسائل کے ذریعے بھی اسلام اور مسلمانوں کی صحیح اور سچی تصویر پیش کی جاسکتی ہے ۔ اس سے غیر مسلموں کے قلوب و اذہان سے غلط فہمیاں دور ہونگی ، ساتھ ہی ساتھ اسلام کی حقانیت بھی ان پرخوب واضح اوراُجاگر ہو گی ۔
اسی طرح توہینِ رسالت کے موضوع پر علماے اہلِ سنت کی سیکڑوں کتب ورسائل موجود و مطبوع ہیں، اگر انہیں تخریج و تسہیل کرکے شائع کیا جائیں اورعوام الناس میں عام و تام کیا جائے تو اسکے بھی بہت ہی مثبت اور دیر پااثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ خاص طور سے اسکول ،کالجیز اور یونی ور سٹیز کے مسلم طلبا و طالبا ت کے لیے تحفظِ ناموسِ رسالتﷺ پرآسان اور عام فہم زبان میں لیٹریچر تیار کیا جائے تو آنے والی نسلیں ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ جیسے حسّاس مسئلے سےواقف ہوگی اور ان کے دل بھی عشقِ رسول اللہ ﷺسے سرشار و مسرور ہونگے۔
یہ چند بنیادی اور ضروری باتیں تھیں، جو ہم نے اپنا فرضِ منصبی سمجھ کر قارئین تک پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کی۔ امیدِ واثق ہے کہ اپنے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کا جذبہ رکھنے والے اٹھیں گے اور تحفظِ ناموس رسالت ﷺ کی خاطر ان باتوں کو روبہ عمل لائینگے۔
