از:۔ڈاکٹر ثناء اللہ شریف ، بنگلور۔9341854740.
درد مندی، خلوص اور محنت، کار آمد طریق تعلیم !!
خوبیاں یہ ہوں جس معلم میں، وہ معلم ہے قابل تعظیم(سلام فیضؔ)
ستمبر کی آمد آمد سے دماغ میں ایک اعلٰی وارفع و مقناطیسی کردار کا تصور آتا ہے جس کا گہرا اثر انسانی زندگی میں جاری و ساری رہتا ہے۔ یہ کردار اسکولس ، کالجس ، یونیورسٹیز، مدرسہ ، جامعات ودار العلوم وغیرہ میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے اس کو کہیں اُستاد ، معلم و مدرس کہتے ہیں تو کہیں ماسٹر، ٹیچر، لکچرار و پروفیسر -انڈین سوسائٹی میں گرو ، برہما ، مہیشور، وشنو، پنڈت، ادھیا پک، اپادھیائے و آچاریہ جیسے اسمائے گرامی استعمال ہوتے ہیں۔
5 ستمبر کو ملک کے طول و عرض میں پورے جوش و خروش اور آب و تاب سے ڈاکٹر رادھا کرشن ملک ِعزیز کے صدر ہند کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ٹیچرس ڈے Day Teachers مناتے ہیں۔ اس دن اساتذہ کو عموما اور وظیفہ یاب اساتذہ کو خصوصا انعامات و اکرامات سے نوازتے ہوئے ان کی بے پناہ محنت و مشقت ایماندارانہ کام اور نئی نسل یا شاہین بچوں کی آبیاری وزر خیزی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اُن کی گراں مایہ خدمات و عظمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی بھی معاشرے کی کا میابی و کامرانی عروج وزوال، پستی و ببلندی میںمعلم کا کردار اہم ہوتاہے۔ نسل نو کی آبیاری و سرسبز و شادابی اور ان کو منزلِ مقصود سے روشناس کرانے ، ان کی روحانی و فکری ارتقاء کی ذمہ داری جسے شخصیت کا اہم جزو تصور کیا جاتا ہے ،اس میں معلم کی شخصیت کا بڑاعمل دخل ہوتا ہے۔ اسی لئے دانشوروں نے ماں کی آغوش کو جہاں بچے کی پہلی درس گاہ اور باپ کو ایک بہترین دوست قرار دیا، وہیں استاد کو بچے کی شخصیت کا معمار بنایا ہے، اسی لئے طلبہ خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود استاد کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔
سکندر اعظم سے پو چھا گیا کہ وہ کیوں والدین سے زیادہ استاد کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جو جواب دیا وہ تاریخ کا ایک سنہرا مکالمہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’والدین، اولاد کو آسمان سے زمین پر لاتے ہیں ، جب کہ استاد اپنے شاگردوں کو زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں پرلا کھڑا کرتا ہے۔
تاریخ کا وہ واقعہ بھی شاہد ہے ، خلیفہ ہارون رشید کے بچوں (شہزادوں ) نے جوش وخروش سے دوڑتے ہوئے اپنے استاد محترم کو جوتیاں پہنانے میں پہل کی تو باپ متاثر ہوئے بغیرنہ رہ سکا، استاد سے پو چھا کہ بتائیے کون معزز و معظم ہے ؟ استاد نے کہا آپ بادشاہ سلامت ! خلیفہ ہارون رشید نے بر ملا کہا کہ استاداہی محترم و معزز ہے۔
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے استاد سید میر حسن بڑے عالم و فاضل شخص تھے، اور اقبال اپنے استاد کیبہت تعظیم کرتے تھے، جب اقبال کو حکومت کی جانب سے ’’سر‘‘ کا خطاب دیا جانے لگا تو انہوں نے اس شرط پر منظور کیا کہ ساتھ ہی ان کے استاد سید میر حسن کو بھی شمس العلماء کا خطاب دیا جائے ۔گورنر نے پو چھا کہ کیا انہوں نے کوئی کتاب تصنیف کی ہے؟آپ نے فرمایا کہ میں ان کی زندہ تصنیف ، آپ کے سامنے موجود ہوں۔‘‘
فاتح عالم سکندر اعظم اپنے اُستاد محترم کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہے تھے کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آیا جو تازہ موسلا دھار بارش کی وجہ سے بھر آیا تھا۔ اُستاد اور شاگرد کے درمیان تکرار شروع ہوگئی کہ پہلے نالہ کون پار کرے گا ! سکندراعظم بضد تھے کہ وہ پہلے نالہ پار کریں گے۔
بالآخر ارسطو نے ہار مان لی اور پہلے سکندر نے ہی نالہ پار کرلیا تو ارسطو قدرے سخت لہجے میں سکندر سے مخاطب ہوا اور پوچھا کہ تم نے مجھ سے پہلے راستہ عبور کر کے میری بے عزتی نہیں کی۔ سکندر نے انتہائی ادب سے قدرے غم ہو کر جواب دیا۔
نہیں ہرگز نہیں اُستاد محترم ، دراصل نالہ بھرا ہوا تھا اور میں یہ اطمینان کرنا چاہتا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ کیوں کہ ارسطو ر ہے گا تو ہزاروں سکند را عظم وجود میں آئیں گے۔ لیکن سکندر ایک بھی ارسطو کو وجود میں نہیں لائے گا۔
استاد اس عظمت و قابل احترام شخصیت کا نام ہے جس کے متعلق امیر المومنین حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ کہا
’’اگر بادشاہ ہو تب بھی اپنے والد اور استاد کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاؤ ۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں’’ ہر نماز کے بعد اپنے باپ اور استاد کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔‘‘استادکے گھر کی جانب پیر دراز نہیں کرتا، حالاں کہ میرا اور اُن کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ ہے۔
ایک مشہور مقولہ ہے کہ جس نے معالج کی عزت نہ کی، اس کو شفاء حاصل نہ ہوگی۔ اور جس نے استاد کی عزت نہ کی ، اس کو علم حاصل نہیں ہوگا۔
٭مدرسہ صرف چار دیواری کا نام نہیں بلک استاد کی نگرانی میںشاہین بچوں کی ذہن سازی و بلندپروازی کا نام ہے۔
٭مدرسہ،ا سکول ، کالج یا یونیورسٹی صرف معلومات کی منتقلی کے مقام نہیں ہیں بلکہ استاد کے علم وفضل اور تجربے و مشاہدے کے ذرریعہ ذروں کو تراشنے کا عمل ہے۔
٭مدرسہ ، طلباء و اساتذہ کے مرکز و مقام کا صرف نام ہی نہیںبلکہ وہ نئی نسل کی نظریہ سازی و آدم گری کا محور و مرکز ہے۔
٭مدرسہ اسکول اس حسین امتزاج کا سنگم بھی ہے جہاںطلباء کی مختلف جہتوں کو فروغ ملتا ہے۔
٭مدرسہ، اسکول یا یونیورسٹی نصاب کو مکمل کرنے،کتاب کے اور اق کی گردانی یالکچر دے کر فرار ہونے کی محض جگہ نہیں بلکہ اسباق کے ذریعہ فکر و آگہی بشختا اور ساحل پر تجربات کے موتیوں کو رولتا ہے۔
مدرسہ ، اسکول ، کالج ا ب ت، ABCاور 123وغیرہ جاننے، چرخ پر جھولنے ، پارک میں پھولنے، غباروں میں اڑنے اور وقت گزاری کی آماجگاہ نہیں بلکہ روح پرور بصیرت افروز اور دلآویز شخصیت سازی کا مخز ن ہے۔
اچھا استاد، دل کش تعلیم وتربیت کے ذریعہ ملک عزیز کے جانباز سپاہی تیار کرتا ہے۔ پہلے مسلمان و انسان بنانے میں کوئی کسرہی نہیں چھوڑتا بلکہ اپنی سرپرستی میں طلباء کو سماجی اقدار سے گہری واقفیت، انسانوں کی رہبری و رہنمائی ، اعلٰی ظرفی، ایثار و قربانی جیسی خداداد صلاحیتوں کو فروغ بھی بخشتا ہے۔ بقول طاہر صاحب ۔۔۔انقلاب ، میدان جنگ یا سیاسی ایوانوں سے برپا نہیں ہوتے، انقلاب ، اسکولوں اور کمرہ ء جماعت میں اسات ہ کی زیر نگرانی پرورش پاتے ہیں۔‘‘
غرض طلباء کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے میں اساتذہ کا کلیدی رول ہوتا۔اسی لئے اقبال نے بھی کہا ہےاے معلم معمار جہاں تو ہے۔استاد ہونا ایک عظیم نعمت اور لازوال سعادت ہے اور یہ سعادت پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے ہوتی ہے کہ میںمعلم بناکر بھیجا گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نے پیشہء تدریس کو نہ صرف عظمت و رفعت اور بلندی عطا کی ہے بلکہ پیشہء معلمی کو معراج بخشی ہے۔ اس اعزاز کے بعد کسی اور اعزاز کی ضرورت نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میں علم اورحسنِ اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا گیا ہوں ایک اور مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عالم کو عابد پر اتنی ہی فضیلت ہے جتنی کہ چودھویں کے چاند کو ستاروں پر فضیلت ہے۔ خیر کی تعلیم دینے والے استاد کے حق میں کا ئنات کی ہر چیز مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔ سمندر کی مچھلیاں بھی اور فرشتے راستوں میںخوشی سے اپنے پربچھاتے ہیں۔قرآن کریم و حکیم نے علم والوں (استاد) کی عظمت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے…’’تم میں سے جوایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللہ ان کو بلند درجے عطافرمائے گا‘‘(المجادلہ ۱۱)
’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھوکہ کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکرکھنے والے کبھی یکساں ہوسکتے ہیں‘‘(الزمر)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں‘‘ (فاطر (۲۸)
ان ارشادات سے بھی بخو بی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ علم والوں( استاد) کا کیا مقام ہے۔ اور اساتذہ جب علم کو ایک شخص سے دوسرے تک اور ایک نسل سے دوسری نسل تک اور ایک قوم سے دوسری قوم تک منتقل کرتے ہیں، حق و باطل کی تمیز سکھاتے ہیں ،نو جوان نسل کاتزکیہ کرتے ہوئے اپنے حقیقی مالک سے رشتہ استوار کرتے ہیں تو انبیائی مشن کی تکمیل کے ساتھ ساتھ صدقہ ء جاریہ کے بھی مستحق ہوں گے۔
غرض مدرسہ وہ شمع ہے جو اندھیرے راستوں میں صحیح سمت کی جانب رہ نمائی کرتی ہے، اور اساتذ نسل نوکی منزل و مقصد کے حصول میں محرک ثابت ہوتے ہیں، اسی لئے دعاؤں میں والدین کے ساتھ ساتھ ان کے حق میں دعائے خیر اور منفرت کی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! تو میری اور میرے والدین کی اور میرے اساتذہ کی مغفرت فرما۔
روشنی بانٹا پھرتا ہے وہ سورج کی طرح
ڈوبتا ہے تو ستاروں کو جنم دیتا ہے
