روحِ شباب اور پیغامِ تعمیر ِ وطن 

مضامین
از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی ۔ 9902672038
نیشنل یوتھ ڈے ہر سال 12 جنوری کو پورے بھارت میں جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن عظیم مفکر سوامی ویویکانند کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ حکومتِ ہند نے 1985ء میں یہ فیصلہ کیا کہ سوامی ویویکانند کے افکار اور نظریات کو نوجوان نسل تک پہنچانے کے لیے ان کی سالگرہ کو نیشنل یوتھ ڈے کے طور پر منایا جائے، تاکہ نوجوانوں میں خود اعتمادی، حب الوطنی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا ہو۔
1893ء میں سوامی ویویکانند جب شکاگو پہنچے تاکہ عالمی پارلیمنٹِ مذاہب کے تاریخی اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ جب انہوں نے اپنی ولولہ انگیز تقریر کا آغاز نہایت سادگی مگر غیر معمولی وقار کے ساتھ ان الفاظ سے کیا’’سسٹرز اینڈ بردرز آف امریکہ ‘‘ تو محفل پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔ پورا مجمع احترام اور تحسین میں کھڑا ہو گیا اور دیر تک تالیوں کی گونج اس عظیم لمحے کی عظمت کو بیان کرتی رہی۔اس مختصر مگر پُرمعنی خطاب کے ذریعے سوامی ویویکانند نے انسانیت کے دلوں کو جوڑ دینے والا عالمی اخوت کا پیغام پیش کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا کہ تمام مذاہب اپنی اصل میں محبت، امن اور بھائی چارے کے علمبردار ہیں۔ ویویکانند نے مذاہب کے مابین ہم آہنگی، باہمی احترام اور نسل، عقیدہ، زبان یا قومیت کی تمام حد بندیوں سے ماورا انسانی وحدت پر زور دیا۔ ان کی پُراثر تقریر نے نہ صرف بھارت کی قدیم روحانی وراثت اور فکری بالیدگی کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا بلکہ رواداری، ہمدردی اور اتحادِ انسانی کا ایسا پیغام دیا جو آج بھی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ شکاگو کا وہ تاریخی لمحہ سوامی ویویکانند کو عالمی سطح پر امن، بھائی چارے اور انسانی اقدار کے عظیم پیامبر کے طور پر ہمیشہ کے لیے امر کر گیا۔
نیشنل یوتھ ڈے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بھارت ایک نوجوان ملک ہے، جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہندوستان آبادی کے اعتبار سے ایک نوجوان ملک ہے۔ اندازوں کے مطابق ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر ہے، جبکہ 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کا تناسب تقریباً 27 فیصد کے آس پاس ہے۔ یہ نوجوان طاقت ہندوستان کی سب سے بڑی قوت ہے۔ تعلیم، ہنر مندی، اسٹارٹ اپس، ڈیجیٹل انقلاب، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل اور اختراعات میں نوجوان نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع اور مثبت رہنمائی فراہم کی جائے تو یہی نوجوان ملک کی سماجی، معاشی اور قومی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
یہی نوجوان قوم کا حال بھی ہیں اور مستقبل بھی۔ اس دن کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو بیدار کرنا، ان میں مثبت سوچ پیدا کرنا اور انہیں ملک و سماج کی تعمیر کے لیے تیار کرنا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تقاریر، مباحثے، ثقافتی پروگرام اور سماجی سرگرمیوں کا انعقاد اسی مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔سوامی ویویکانند کی یومِ پیدائش کو نوجوانوں سے اس لیے منسوب کیا گیا کہ ان کی پوری زندگی نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو کمزوری، مایوسی اور خوف سے نکل کر طاقت، خود اعتمادی اور کردار سازی کا پیغام دیا۔ ان کا مشہور قول ہےاُٹھو، جاگو اور اس وقت تک نہ رکو جب تک منزل حاصل نہ ہو جائے۔ یہ الفاظ آج بھی نوجوانوں کے دلوں میں نئی روح پھونک دیتے ہیں۔ ویویکانند کا یقین تھا کہ مضبوط کردار، اخلاقی اقدار اور روحانی طاقت کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
نیشنل یوتھ ڈے کے اغراض میں سب سے اہم مقصد نوجوانوں میں قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی، سائنسی فکر اور اخلاقی قدروں کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن نوجوانوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پورے سماج اور ملک کے لیے ذمہ دار ہیں۔ تعلیم، صحت، صفائی، ماحولیات اور سماجی انصاف جیسے شعبوں میں نوجوانوں کی شمولیت ملک کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ نوجوان ملک کی تعمیر میں کلیدی رول اس طرح ادا کر سکتے ہیں کہ وہ تعلیم کو اپنا ہتھیار بنائیں، ہنر مندی حاصل کریں اور جدید ٹیکنالوجی کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کریں۔ بے روزگاری، بد عنوانی، سماجی برائیوں اور فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کرنا بھی نوجوانو  کی اہم ذمہ داری ہے۔ رضا کارانہ خدمات ، سماجی خدمت، دیہی ترقی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں نوجوان فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیشنل یوتھ ڈے صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک عہد ہیکہ وہ ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ جب نوجوان بیدار ہوتے ہیں تو قوم خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔
نوجوان ملک اور قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جن کے جذبے اور خواب ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان کی محنت، جذبہ حب الوطنی اور علم کی روشنی سے ہر مشکل راہ روشن ہوتی ہے۔ یہی نوجوان اپنے عزم و ہمت سے ملک کی ترقی کی نئی تاریخ رقم کرتے ہیں، ہر چیلنج کو موقع میں بدل کر قوم کے لیے فخر اور امید کی نئی کرن پیدا کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ قوم کی حقیقی قوت اور تابندگی اس کے نوجوانوں ہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب نوجوان اذہان مضبوط کردار، بلند اخلاق، اعلیٰ انسانی و اخلاقی اقدار، نظم و ضبط اور خلوصِ نیت کی روشنی میں پروان چڑھتے ہیں تو وہ ترقی و تعمیر کے باوقار اور توانا علمبردار بن جاتے ہیں۔ ایسے باصلاحیت نوجوان نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں کامیابی کے زینے طے کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور ملک کی سالمیت کو بھی مستحکم بناتے ہیں۔ ان کی دیانت دار کاوشیں، مثبت و دوررس وژن اور گہرا احساسِ ذمہ داری ہر مشکل کو موقع میں ڈھال دیتا ہے اور یوں ایک مضبوط، تابناک اور خوشحال قوم کی شاہراہ ہموار ہوتی چلی جاتی ہے۔