از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔کروشی بلگام کرناٹک۔8105493349

سن 2022 کی بات ہے۔ کلاس مکمل کر کے جماعتی کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایک انجان نمبر سے کال آئی۔ کال ریسو کرنے پر ایک باوقار لہجے میں آواز آئی“میں قدیر احمد قدیر بول رہا ہوں، آپ کی غزل ابھی ابھی نئی دہلی سے شائع ہونے والے رسالے پیش رفت میں دیکھی، بہت پسند آئی، اس لیے مبارکباد دینا چاہتا تھا۔”یہ پہلی ہی گفتگو تھی، مگر محبت، خلوص اور شفقت سے بھرپور۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے نمبر محفوظ کیے۔ اس کے بعد یہ معمول بن گیا کہ جب بھی میرا نیا کلام ہوتا یا قدیر صاحب کوئی تازہ غزل یا نعت کہتے تو سب سے پہلے مجھے سناتے اور رائے پوچھتے۔ ان کی ہر غزل قابلِ داد ہوتی۔ چند دن بعد وہی غزل جب اخبار میں شائع ہوتی تو مجھے ضرور بھیجتے۔
میں نے قدیر صاحب کا نمبر اپنی واٹس ایپ براڈ کاسٹ لسٹ میں شامل کر رکھا تھا، اس طرح میری غزلیں ان تک پہنچتی رہتیں، جن پر وہ دل کھول کر داد دیتے اور دعاؤں سے نوازتے۔ میں اکثر ان سے عرض کرتا کہ اپنے تمام کلام کو یکجا کر کے کتابی شکل دیں، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے محفظ رہ سکے۔اسی دوران کرناٹک اردو اکادمی بنگلورو کی جانب سے یہ اعلان ہوا کہ ریاست کے شعراء و ادباء کے مسودات کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ یہ خبر سنتے ہی قدیر صاحب نے فوراً اپنا کلام مرتب کروایا، ڈی ٹی پی مکمل کروایا اور مسودہ اکادمی کو ارسال کر دیا۔ بعد میں اکادمی سے تصدیق بھی ہو گئی کہ گدگ ضلع سے قدیر صاحب کا ہی مسودہ موصول ہوا ہے۔ ہمارے درمیان ہفتے میں دو تین بار گفتگو ہوتی تھی۔ ایک موقع پر جب مجھے روزانہ غزل کہنے پر بعض حلقوں کی تنقید کا سامنا ہوا تو میں نے اس کا ذکر قدیر صاحب سے کیا۔ انہوں نے نہایت تسلی بخش انداز میں کہا“آفتاب، دنیا میں آپ اچھا کام کریں یا برا، تنقید بہرحال ہو گی۔ آپ اس کی پروا نہ کریں، اپنے کام میں لگے رہیں۔”ان الفاظ نے مجھے حوصلہ دیا اور میں اپنے ادبی سفر پر ثابت قدم رہا۔ چند ماہ قبل قدیر صاحب نے فون کر کے بتایا کہ ان کا ایک چھوٹا سا آپریشن ہونے والا ہے اور دعا کی درخواست کی۔ بعد ازاں انہوں نے اطلاع دی کہ الحمدللہ آپریشن کامیاب رہا ہے۔ میں نے صحت یابی کی دعا کی۔ کچھ دن آرام کی غرض سے رابطہ کم رکھا۔اکتوبر میں، جب میں پونہ میں تھا، اچانک ان کا فون آیا۔ آواز میں اس قدر کمزوری تھی کہ پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ کہنے لگے “بہت تکلیف میں ہوں، میرے لیے دعا کریں۔” آواز بھرائی ہوئی تھی، جیسے روتے روتے بات کر رہے ہوں۔ میں نے کہا کہ واپس آ کر ان سے ملاقات کروں گا۔ جواب میں بولے “ضرور آئیے، ممکن ہے آپ کو
دیکھنے کی برکت سے اللہ شفا دے۔”یہ جملہ آج بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔میں نے گدگ، ہبلی اور بلگام کے ان احباب کو ان کی علالت کی اطلاع دی جو ان کے قریب تھے، اور کئی حضرات نے جا کر ملاقات بھی کی۔ بدقسمتی سے واپسی کے بعد مصروفیات کے باعث میں خود نہ جا
سکا۔ درمیان میں فون پر بات ہوتی رہی اور طبیعت میں کچھ بہتری کی خبریں ملتی رہیں۔چند دن قبل عزیز صاحب کے انتقال کی خبر دینے کے لیے فون کیا تو انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا“عزیز صاحب بہت اچھے انسان تھے۔”یہ ہماری آخری گفتگو ثابت ہوئی۔بدھ، 24 دسمبر 2025 کو سہ پہر تقریباً چار بجے واٹس ایپ گروپ میں ان کے انتقال کی خبر ملی تو دل بے حد رنجیدہ ہو گیا۔واقعی، ان سے ملنے کی حسرت ہی رہ گئی۔اردو ادب کے شجر سے ایک اور خوبصورت پتّا گر گیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا کرے۔ آمین۔
