از:۔مفتی محمدشمس تبریز علیمی ۔7001063703
غریب ماں اپنے بچوں کو پیار سے یوں مناتی ہے پھر بنا لیں گے نئے کپڑے یہ عید تو ہرسال آتی ہے
اسلام امن وسلامتی کامذہب ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ اس کے ماننے والوں کے درمیان اتفاق واتحاد ، میل ومحبت ہو،اسلام چاہتاہے کہ مسلمانون کامعاشرہ سدابہارہوجس کی آبیاری وہ ایک دوسرے کیلئے ایثار اورقربانی سے کریں کہ کوئی کسی پربرتری کا مظاہرہ نہ کرے، کوئی کسی کوحقیرنہ جانے، کوئی کسی کے حسدو عناد اور بغض وکینہ میں مبتلانہ ہو۔سب ایک دوسرے کے ہمدردہوں ، ایک دوسرے کی عزت وآبرواور جان ومال کے محافظ ہوں ۔ کیونکہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں چاہے وہ کسی رنگ کے ہوں یاان کاتعلق کسی نسل سےہو، وہ کسی بھی شہریاملک کے بسنے والے ہوں ان کی بولیاں کتنی ہی مختلف ہوں کہ وہ ایک دوسرے کی بات تک نہ سمجھ پاتے ہوں اس کے باوجود بھی وہ بھائی بھائی ہیں کہ وہ ایک ہی درخت کے پھل ہیں، ان کی جڑاوربنیادایک ہی ہے، وہ سب ایک ہی رسی پکڑے ہوئے ہیں۔اسی بھائی چارے کی اہمیت کواجاگر کرتے ہوئے میرے آقا ﷺنے فرمایا: ’’مسلمانوں کودیکھوگے آپس میں مہربانی کرنے میں ، محبت رکھنے اورشفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح ہیں،جب ایک عضوتکلیف میں ہوتاہے توباقی تمام اعضاء بیداری اوربخارمیں مبتلاہوجاتے ہیں‘‘ ۔ اگر پیرکی چھنگلی کے ناخن میں بھی تکلیف ہو توسرتک سارا جسم درداوربخارمیں مبتلاہوجاتا ہے انسان تڑپنے لگتا ہے ،اس کی نینداس کاسکون برباد ہوجاتا ہے اسی طرح ایک مسلمان بھی کسی تکلیف میں مبتلا ہو کسی کے ظلم وستم کاشکارہوتوپوری دنیاکے مسلمانوں میں ہیجان اوربے چینی پیداہونایقینی ہے کہ جس طرح جسم کے تمام اعضاء میں خونی تعلق ہے اسی طرح دنیاکے تمام مسلمانوں میں مذہبی تعلق ہے یہ مصیبت زدہ ومظلوم مسلمان کسی بھی جگہ کے ہوں ان کی امداد کیلئے دنیا بھرکے مسلمان تڑپنے لگتےہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے نہ وہ خوداپنے بھائی پر ظلم کرتاہے اورنہ ہی وہ اسے ظالم کے سپردکردیتا ہے۔اورآپ کاارشادہے’’اللہ اپنے بندے کی اس وقت تک مددفرماتارہتاہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مددکرتارہتا ہے ۔ میرے آقا ﷺ کایہ بھی فرمان ہے’’ ایک مؤمن دوسرے مؤمن کیلئے دیوارکی مانند ہے جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کا سہارادیتی ہے‘‘۔ یعنی مسلمان جب تک متحدومنظم رہتے ہیں ایک دوسرے کو اپنا بھائی یقین کرتے ہیں وہ دشمن کے مقابلہ پرایک مضبوط دیوارکی طرح ڈٹے رہتے ہیں اوراگروہ خودایک دوسرے کے دشمن بن جاتے اورمنتشرومتفرق ہوجاتے ہیں تو دشمن کوکچھ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی جووہ کرناچاہتا تھا خود ہی مسلمانوں نے کرلیااب دشمن صرف تماشائی بن کردیکھتا ہے اور خوش ہوتاہے اوران کوبندروں کی طرح اپنی انگلیوں پرنچاتا رہتا ہے ۔ (یاایھاالذین آمنوا،ج :۲)
اللہ عزوجل اوراس کے رسول ﷺ کے فرامین سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں،جس کاسیدھا سا مطلب یہ نکلتاہے کہ اگرایک مسلمان کسی پریشانی میں مبتلاہوتو دوسرا اسے دیکھ کرمطمئن نہیں رہ سکتابلکہ اس کاایمانی جذبہ اسے بھی مضطرب کردیتاہےاوروہ اپنے بھائی کی پریشانی کودورکرنے کیلئے ہرممکن کوشش کرتاہے۔آج بھارتی مسلمانوں کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں کہ پچھلے چندسالوں سےمنظم سازشوں کے تحت مسلمانوں کے خلاف اس قدرنفرتی پروپیگنڈہ تیارکیاگیاکہ جس کا نظارہ آج کی دنیاکررہی ہے۔کسی بھی ملک اورقوم کی اصل زینت اس کے نوجوان ہی ہوتے ہیں جب کے اسکے اندرانسانیت کا درد رکھنے والادل اورامن ومحبت ، اخوت وبھائی چارہ کیلئے مضطرب ہونے والاجگر موجود ہو ۔ لیکن عصرحاضرکے کم فہم ،ناعاقبت اندیش نوجوانوں کے اندراقلیتی طبقہ کے متعلق اس قدرنفرت کابیج بویاگیاہے کہ جس کی وجہ سے انہیں اپنی تعلیم اور روزگارکی کوئی بھی فکرنہیں رہتی بلکہ ہروقت امن و آشتی کے علمبرداروں کے خلاف برسر پیکارنظرآتے ہیں ۔ اورمسلمانوں کے گاؤں،محلے میں مساجدو مدارس کے سامنے نفرتی نعروں کااستعمال کرتے ہیں ۔ پولیس افسران کی موجودگی میں ہماری عبادت گاہوں پرپتھربازی کرتے اور غریبوں کے دکان ومکان کونقصان پہنچاتے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں پورے بھارت میں جوکچھ ہوااورہورہاہے وہ کسی سے بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔ہمارے ادارے، یونیورسیٹی، مساجد،مدارس،اور مکانات وتجارت گاہوں پربلاکسی اطلاعات کے بلڈوزرچلائے جارہے ہیں۔مسلمانوں کی معیشت کوبرباد کیا جارہاہے۔ہمارے غریب و محتاج بھائیوں کی چھونپڑیوں کوخاک کاملبہ بنادیاگیا ہے ۔بہت ساری بیوہ عورتیں اوریتیم بچے کھلے آسمان کے نیچے چودہ ،پندرہ گھنٹے روزہ رکھے ہوئے زندگی گزارنے پرمجبورہیں ۔ ان کے پاس نہ توآمدنی کے ذرائع ہیں اورنہ ہی کوئی پرسان حال ۔اس قدرشدت سے پڑنے والی دھوپ اورگرمی میں انکی خستہ حالت پرکسی کوترس بھی نہیں آتااورآئے بھی کیسے؟ جبکہ وحشی انسانوں کی انسانیت دم توڑچکی ہے۔اورحکومت وقت کے بدن پرجوں تک نہیں رینگتی ۔ایسے عالم میں جب کہ بھارت کے کئی صوبے میں ہمارے بھائیوں کی معیشت کوتباہ کردیاگیاہے ،ان کے پاس رہنے کومکان نہیں ،پہننے کیلئے لباس نہیں،کھانے کودانہ نہیں،غرض یہ کہ ان کی یہ حالت دیکھ کرآج انسانیت بھی شرمسارہے۔ توایسے حالات میں جب کہ ہمارے بھائی دردوکرب کے عالم میں ہیں ہم ہزاروں روپے شاپنگ میں خرچ کرتے ہوئے کیسے عید مناسکتے ہیں ؟ ارے ذرااپنے ضمیرسے پوچھیں کہ ہمارے بچے ، بیوہ عورتیں مضطرب ہیں اورہم ایک ماہ پہلے سے نئے لباس کی تیاریوں میں مصروف ہیں ،کیایہی ایمانی تقاضہ ہے؟عیدسعیدمیں نیا لباس ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے، اس لئے اس بار نہایت سادگی کے ساتھ عیدمنائیں اوراپنے مظلوم بھائیوں کی امدادکے لئے انتظامات کریں۔اوراپنے دانشوروں کوساتھ لیکرایسے اقدامات کریں کہ مستقبل میں ظالموں کوظلم کرنے سے روکاجاسکے اورمظلوموں کوآئینی حقوق دلانے کیلئے مکمل کوششیں کی جائیں ۔ذرا سوچیں کہ اس وقت ہماری قوم درد و کرب سے مضطرب ہے توہم کیسے عیدمیں خوشیاں مناسکتے ہیں؟؟؟
