کانپور:۔ بی جے پی لیڈر کو یوپی پولیس نے پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں تبصرہ کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے یہ کاروائی کانپور میں تشدد کے بعد کی ہے۔ بی جے پی کے اس لیڈر کا نام ہرشیت شریواستو بتایا جا رہا ہے۔پولیس نے یہ کاروائی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ پوسٹ کرنے پر کی ہے۔ ہرشیت یووا مورچہ کا سابق ضلع منتری ہے۔ کانپور کے پولس کمشنر وجے مینا نے کہا ہے کہ جو بھی مذہبی جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرے گا، ہم اس کے خلاف کاروائی کریں گے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ بی جے پی لیڈر نوپور شرما اور نوین کمار جندل کی طرف سے پیغمبر اسلامؐ پر کئے گئے ریمارکس پر تنازعہ ابھی تک جاری ہے۔ایران، عراق، کویت، قطر، سعودی عرب، عمان، ایران، متحدہ عرب امارات، اردن، افغانستان، بحرین، مالدیپ، لیبیا اور انڈونیشیا سمیت کم از کم 15 ممالک نے متنازعہ ریمارکس پر ہندوستان کے خلاف سرکاری احتجاج درج کرایا ہے۔بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما کو معطل کر دیا گیا ہے، جب کہ پارٹی کی دہلی یونٹ کے میڈیا سربراہ نوین کمار جندل کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کانپور تشدد کے بعد یوپی حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 21 آئی اے ایس افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ دوسری جانب کانپور کی ڈی ایم نیہا شرما کا بھی تبادلہ کر دیا گیا ہے۔اب یہاں کے نئے ڈی ایم وشاک جی ہوں گے۔ کانپور، اترپردیش میں جمعہ کے روز پیغمبر اسلام کے خلاف بی جے پی کے ایک ترجمان کے متنازعہ اور مبینہ ‘توہین آمیز’ ریمارکس کے خلاف احتجاج میں تشدد پھوٹ پڑا۔متنازعہ بیان کے خلاف احتجاج میں جمعہ کی نماز کے بعد دکانیں بند کرانے کے دوران دو برادریوں کے لوگوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔ اس پر قابو پانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ پولیس نے اس تشدد کے سلسلے میں 30 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔
