کورونا سے ڈرنا نہیں لڑناہے،سرکاری اسکیم سے بھی بہتر علاج حاصل کیاجاسکتاہے

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز

شیموگہ:۔کورونا کے مرض کے تعلق سے لوگوں میں جہاں  بدگمانیاں اور خوف پید اہورہاہے وہیں بیشتر لوگوں کو مفت میں کیسے علاج کروایا جاسکتاہے اسکا اندازہ نہیں ہورہاہے اور جیسے ہی کورونا مرض کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں تو وہ نجی اسپتالوں کا رخ بیٹھتے ہیں جسکی وجہ سے مریضوں کو لاکھوں روپئے خرچ کرنا پڑرہاہے ۔دراصل عام لوگوں میں سرکاری اسکیم اور سہولیات کے تعلق سے معلومات کی کمی ہونے کی وجہ سے وہ نجی اسپتالوں کارخ کررہے ہیں۔اگرکسی بھی شخص کو کوروناکی علامتیں دکھائی دیتی ہیں تو سب سے پہلے نزدیکی پرائمری ہیلتھ سینٹریاسرکاری اسپتال میں جاکر اپناٹیسٹ کروائے جوکہ پوری طرح سے مفت ہوتاہے،یہ ٹیسٹ دو طرح کے ہوتے ہیں جس میں پہلا ٹیسٹ ریاپیڈاینٹیجن ٹیسٹ(ریاٹ) اوردوسرا آرٹی پی سی آرٹیسٹ ہوتاہے ، دونوں کسی بھی ٹیسٹ کے ذریعے سے کوروناکی تصدیق ہوجاتی ہے۔اگر مریض کو کوروناپازیٹیو ہے تو خودمحکمہ صحت عامہ کی طرف سے رابطہ کیاجاتاہے اور اُن کے صحت کے تعلق سے تفصیلی رپورٹ لی جاتی ہے،اگر مریض میں زیادہ پریشان کن علامتیں پائی جاتی ہیں تو انہیں اسپتال آنے کیلئے کہاجاتاہے۔اگرچہ محکمہ سے فون نہیں آتاہے تو تب بھی خود مریض اسپتال جاکر اپنی صحت کے تعلق سے معلومات فراہم کرسکتاہے۔ڈاکٹران کی صحت دیکھ کر طئے کرتے ہیں کہ انہیں اسپتال میں داخل کیاجائے یاپھر گھرمیں رہ کرعلاج کروایاجائے۔اگر اسپتال میں داخل کرنے کی نوبت آتی ہے توڈاکٹرس مریض کاداخلہ لیتے ہیں اور اگرچہ اسپتال میں بیڈ،آکسیجن بیڈ یا آئی سی یو بیڈکی سہولت نہ ہوتو خود سرکاری اسپتال میں ایک سفارش نامہ پرائیوئٹ اسپتال کے نام جاری کیاجاتاہےاور پرائیوئٹ اسپتال میں مریض کا مکمل مفت علاج ہوتاہے۔شرط یہ ہے کہ پہلے مریض کو سرکاری اسپتال کو ہی جاناہوگا۔پرائیوئٹ اسپتال میں جس طرح سے پیسے لیکر مریض کا علاج کیاجاتاہے،اُسی طرح سے سرکاری کوٹےمیں آنے والے مریضوں کا بھی علاج معیاری سطح پر کرناپڑتاہے۔لوگوں کو اس بات سے خوفزدہ ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں کہ وہ کوروناکے مریض ہوچکے ہیں۔جتنی موتیں ہورہی ہیں،اُن میں کوروناکی وجہ سے کم بلکہ ڈرکی وجہ سے زیادہ ہورہی ہیں۔کورونامیں صرف سردی، بخار اور انفیکشن پایاجاتاہے جوکہ دیگر بخارکے مترادف ہے۔اس لئے وقت رہتے اگر علاج دیاجاتاہے اور اپنے آپ کو مضبوط بنالیاجاتاہے تو یقیناًکوروناسے آسانی کے ساتھ لڑاجاسکتاہے۔کئی ایسی مثالیں بھی ہیں جس میں70تا80 سال کے بزرگ بھی علاج میں کامیاب ہوکر معمول کے مطابق زندگی گذاررہے ہیں۔سرکاری اسپتالوں میںعلاج بہتر طریقے سے نہ ہونے کی بھی دلیلیں ہیں،لیکن کوروناکی وباء کے ان سنگین حالات میں ہم علاج کیسے لے سکتے ہیں وہ اہم ہے،نہ کہ اسپتالوں کا معیار جانچتے ہوئے گھومیں۔ساری دنیا میں کوروناکیلئے ایک ہی دوا اور ایک طریقہ کارعلاج ہے،اس میں کوئی فرق نہیں،فرق صرف اونچی عمارتیں،نرم بستراورنمائشی باتوں کا ہے،جوکہ علاج کیلئے اثر اندازنہیں ہوتے۔