عشرۂ ذوالحجہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

مضامین
از:مولانامحمد محسن خلیلی قادری. 8977864279
ویسے تو ذوالحجہ کا پورا مہینہ ہی قابل احترام ہے لیکن اس کے ابتدائی دس دن تو بہت ہی فضیلت اور عظمت والے ہیں۔ حج بھی ان ہی ایام میں ادا کیا جاتا ہے۔ اس ماہ کی ابتدائی دس راتیں لیلۃ القدر کا مرتبہ رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے عشرۂ ذوالحجہ کو مختلف عبادتوں کے ذریعہ خصوصیت بخشی ہے۔ اس پورے عشرہ میں اسلام کے اہم ترین اعمال انجام دئے جاتے ہیں اور عبادتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: عشرہ ٔذوالحجہ میں ایک دن کا روزہ رکھنا سال بھر کے روزہ رکھنے کے برابر ہے اور اس کی ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ (ترمذی ص:150ج: 1) غیر حاجیوں کیلئے عرفہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ سے عرفہ کے روزے کی بابت سوال کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام) یوم عرفہ کے دن کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے آپ ﷺنے فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ (نویں ذوالحجہ) کے دن سے زیادہ بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں اور اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن بندوں کے سب سے قریب ہوتے ہیں پھر فخر سے فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ یہ بندے کیا چاہتے ہیں ؟ (مسلم حدیث نمبر 2410) حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ شیطان کو کسی بھی دن اتنا ذلیل و خوار، اتنا دھتکارا ہوا اور اِتنا جلا بھنا ہوا نہیں دیکھا گیا جتنا کہ وہ عرفہ کے دن ذلیل و خوار اور سیاہ غضبناک دیکھا جاتا ہے اور یہ صرف اس لئے کہ وہ اس دن رحمت کو (موسلادھار) برستے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی کا فیصلہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ (شعب الایمان)نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہوتو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے شخص کو ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعداپنے بالوں کی حجامت اور ناخن تراشنے سے بچنا چاہئے، ایک دوسری روایت میں ان الفاظ کی زیادتی ہے ’’حتی یضحی‘‘یہاں تک کہ وہ قربانی کرلے ،یعنی قربانی کرنے کے بعد حجامت وغیرہ کروائے اس سے پہلے نہیں، یہ حکم مستحب ہے، سنن ابی داؤد کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص نے قربانی کے عدم ِاستطاعت کا اظہار کیا تو آپﷺ نے اس سے فرمایا ’’تم 10 ذوالحجہ کو اپنے بال بنوا لینا، ناخن تراش لینا،مونچھیں کتروالینا اور زیر ناف کے بال صاف کرلینا یہی عنداللہ تمہاری قربانی ہے‘‘اس حدیث کی بنیادپر بہت سے اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص جس پر قربانی واجب نہیں ہے تو اُسے چاہئے کہ ان ایام میں اپنے بالوں کی حجامت اور ناخن وغیرہ تراشنے سے بچے اور عیدالاضحی کی نماز کے بعد اپنی حجامت اور ناخن وغیرہ تراشے تاکہ ان ایام کی فضیلت اور قربانی کے ثواب کو پاسکے، ہمیں اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہئے۔ تکبیر تشریق:۔عشرۂ ذوالحجہ میں تکبیر و تہلیل اور تسبیح کے وِرد رکھنے کی تلقین فرمائی گئی اور بطور ِخاص ایام ِتشریق میں تکبیراتِ تشریق کے پڑھنے کا حکم دیا گیا اور ان ایام کے ہرہر لمحہ کا احترام کرناچاہئے تاکہ ان معتبرک دنوں کاکوئی پل ہماری کاہلی اور سستی کی نذرنہ ہو جائے، خاص کر ایام تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ بلند آواز سے تکبیر تشریق پڑھنا واجب ہے اورتین مرتبہ پڑھنامستحب۔ تکبیر تشریق فرض نمازوں بشمول جمعہ کی نماز کے بعدبھی پڑھی جائیگی۔ وتر، سنت اور نفل کے بعد نہیں ہے۔ اگر کوئی امام تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدی کو بلند آواز سے پڑھ کر یاد دِلا دینا چاہئے۔ (درمختار ص:2280)تکبیر تشریق کے الفاظ یہ ہیں: اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْاللّٰہُ اَکْبَرْوَلِلّٰہِ الْحَمْدُ تکبیر تشریق کی تاریخ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نہایت تیزی میں اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیرتے ہوئے دیکھا تو کہا اللہ اکبر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آسمانی مینڈھا دیکھا تو فرمایا لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے جب یہ منظر دیکھا تو فرمایا َاللّٰہُ اَکْبَرُوَلِلّٰہِ الْحَمْدُ ۔ تینوں کی تسبیحات مل کر تکبیرتشریق بن گئی ۔یہ تسبیح اللہ تعالیٰ کو اتناپسند آئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک اُمت پر لازم کردی۔نویں (9)ذوالحجہ کی صبح کی نماز سے تیرہویں (13)ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے فوراً بعد یہ تکبیریں مردوں کے لئے بآواز بلند اور عورتوں کے لئے آہستہ کہنا ہے۔ نماز ِعیدالاضحی کو ملا لیا جائے تو کُل 23 نمازیں ہوجاتی ہیں جن میں تکبیر تشریق پڑھنا واجب ہے یہ تکبیر مقیم، مسافر ،منفرد، جماعت، عورت اہل شہر اور اہل دیہات سب پر واجب ہے۔(درمختار ص:180،ج:2)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عشرۂ ذو الحجہ کے متعلق یہ فرماتے تھے کہ:ایک دن ہزار دنوں کے برابر ہے اور عرفہ کا دن دس ہزار دنوں کے برابر ہے یعنی فضیلت میں۔(الترغیب والترہیب للمنذری 2/  128 رقم الحدیث 1788 کتاب الحج) حضرت سیدناشیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ نے غنیہ الطالبین میں لکھا ہے کہ جو شخص ذوالحجہ کے دس دنوں کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دس چیز مرحمت فرما کر اس کی تکریم کرتا ہے۔ (۱) عمر میں برکت (۲) مال میں برکت و اضافہ (۳) اہل و عیال کی حفاظت (۴)گناہوں کا کفارہ (۵)نیکیوں میں اضافہ (۶)نزع میں آسانی (۷)ظلمت میں روشنی (۸)میزان میں وزن (۹) دوزخ کے طبقات سے نجات (۱۰)جنت کے درجات پر عروج۔جس نے اس عشرہ میں کسی مسکین کو کچھ خیرات دی اس نے گویا اپنے پیغمبروں علیہم السلام کی سنت پر صدقہ دیا۔ جس نے ان دنوں میں کسی کی عیادت کی اس نے اولیاء اللہ اور ابدال کی عیادت کی، جو کسی کے جنازے کے ساتھ گیا اس نے گویا شہیدوں کے جنازے میں شرکت کی، جس نے کسی مومن کو اس عشرہ میں لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف سے خلعت پہنائے گا جو کسی یتیم پر مہربانی کریگا، اللہ تعالیٰ اس پر عرش کے نیچے مہربانی فرمائے گا، جو شخص کسی عالم کی مجلس میں اس عشرہ میں شریک ہوا وہ گویا انبیا اور مرسلین علیہم السلام کی مجلس میں شریک ہوا۔ (غنیہ الطالبین صفحہ ۴۱۹) عشرۂ ذوالحجہ کے اتنے فضائل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان ایام میں ہر عبادت کا خوب اہتمام کیا جائے۔ فرائض اور سنن کے ساتھ نفلی عبادات بھی کی جائیں۔ ان ایام کے دن اور رات عبادات میں گزاریں۔ احکام خداوندی اور ارشاداتِ نبویﷺکی کامل اطاعت اور گناہوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے یہ کہناضرور چاہونگا کہ ذوالحجہ کے شروعات کے دس دن بہت زیادہ فضیلت والے ہیں تکبیرات کے ساتھ ساتھ نوافل،روزے، صدقہ و خیرات،اداکرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں ان با برکت ایام سے بھرپورفائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین ۔