شیموگہ:۔شیموگہ شہر کو حساس اور فرقہ وارانہ تشدد کا مرکز ماناجاتاہے۔کچھ ماہ قبل شہرمیں ہرشانامی بجرنگ دل کے کارکن کے قتل سے ہونےو الے فسادات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی ،ایسے میں ہر دن کسی نہ کسی بہانے سے مسلم نوجوان پُر تشدد واقعات کو انجام دینے کے شوشے اڑاکر حالات کوخراب کررہے ہیں ۔ ہر ہفتے تین چار نوجوان ایسی افواہیں اور حرکتیں انجام دیکر جیلوں کی سلاخوں میں بند ہورہے ہیں۔ان واقعات سےشہرمیں حالات بگڑنے کے قوی امکانات ہیں ۔ اتوار کے دن سوشیل میڈیامیں بجرنگ دل کے کارکن کو قتل کرنے کی ایک آڈیوجاری ہوئی ہے جس کے بعد ایک نوجوان کو پولیس نے حراست میں لیاہے۔اسی طرح سے بجرنگ دل سے ہی تعلق رکھنے والے ایک شخص پر کچھ نوجوانوں نے حملہ کیاہے جس کے بعد شہرمیں حالات مزید بدتر ہوئے ہیں۔اس وقت ریاست میں جو حالات ہیں وہ نہایت پیچیدہ ہیں اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے،لیکن کئی نوجوان اور گروہ بغیر سوچے سمجھے اس طرح کی حرکتیں کرنے سے نہ صرف وہ قانونی شکنجوں میں پھنستے جارہے ہیں بلکہ آنےو الے دنوں میں اس کے نہایت خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔پولیس ان معاملات کو زیادہ بگڑنے سے روک رہی ہے،لیکن جب حالات بےقابو ہوجائینگے تو پولیس کیلئے بھی ان معاملات پر قابوپانا آسان نہیں ہوگاجس کی وجہ سے پورے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑسکتاہے۔نوجوانوں کو قابومیں لانےا ور ان پر لگام کسنے کیلئے اس وقت مسلم عمائدین کی ذمہ داری ہے ،مگرشیموگہ شہرمیں مسلمانوں کی مضبوط قیادت نہ ہونے اور تنظیمی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ناممکن نظرآرہاہے۔چند نوجوانوں کی وجہ سے سارے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ،اس لئے خود مسلمانوں کو چاہیے کہ حالات کے تناظرمیں ایسے نوجوانوں کو بڑھاوادینے اور ان کی پشت پناہی کرنے کےبجائے امن وامان قائم کرنے کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں۔
