12 اگست کوریاست گیر کسانوں کااحتجاج ہوگا: بسواراجپا

ڈ سٹرکٹ نیوز
شیموگہ: کسانوں کی فصلوں کیلئے قیمت کی آزادی کو لیکرریاستی رائترا سنگھااور ہسیروسینانے 12اگست کو ریاستی سطح پر تمام ضلع اور تعلقہ دفاتر کے سامنے کسان جدوجہد شروع کریںگے۔اس بات کا اظہار رائترا سنگھا اور ہسیروسینا کے ریاستی صدرایچ آر بسوراجپا نے کیا ہے۔انہوں نے آج رائترا سنگھ کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک 75 ویں یوم آزادی کی تیاری کر رہا ہے۔ کسانوں کے علاوہ سیاستدان، سیاسی سرپرست، صنعتی مالکان، تاجران اور سرمایہ دار جشن منا رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان کسان جو نہایت سستے داموںمیں اپنی فصلیں فروخت کرتا ہے اوراسطرح کسانوں کی زندگی مقروض ہوجاتی ہے۔ کسانوں کو آج بھی حقیقت میں آزادی نہیں ملی۔لہٰذا ہماری فصلوں کو کم ازکم معقول قیمتیںمل جائیں اس مقصد سے قیمتوں کی آزادی کے نام پر جدوجہد شروع کی گئی ہے۔ 12 تاریخ کو صبح 11 بجے ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر کسانوں کومعقول قیمت نہیں ملی تو ہم ایک نئی قسم کی تحریک بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ہم ان بینکوں کو پیسے نہیں دیں گے جنہوں نے بجلی کی ادائیگی اور ریونیو ادا کرنے کیلئے قرضے دیے ہیں۔ اس کے بجائے ہم انہیں کسان کی اگائی ہوئی فصلیں دیںگے۔چاہے اس کیلئے پولیس ہمیں جرمانہ لگائیں یا سزائیں دیں لیکن ہم پیسوں کی بجائے اگائی ہوئی فصلیں ہی دیںگے ۔ انہوں نے کہا کہ جسطرح فیکٹری پروڈکشن کیلئے قیمتوںکیلئے سیکورٹی ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ہے اسی طرز پرکسانوں کی فصلوں کیلئے بھی قیمتوں کا تحفظ ایکٹ ہونا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب تک قیمتوں میں ہیرا پھیری کی وجہ سے کسانوں پر اٹھنے والے تمام قرضوں کی ذمہ داری حکومتوں کو اٹھانی چاہیے۔بی جے پی حکومت نے ہر کسان کے گھروں میںقومی پرچم لہرانے پر زور دیا ہے۔ یہ ایک خوشی کی بات ہے لیکن ہم حب الوطنی کے نام پر قومی پرچم کی بے حرمتی سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو ہمارے گھروں پر جھنڈا لہرانے کی بجائے معقول قیمت حاصل کرنے کا سوچنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل قومی پرچم کھادی کے کپڑے میں بنایا جاتا تھا۔ اس کیلئے ایک قاعدہ بھی تھا۔ لیکن یہ درست نہیں ہے کہ مرکزی حکومت نے مختلف وجوہات سے قومی پرچم میں ترمیم کی ہے۔پریس کانفرنس میں ہٹور راجو، ٹی ایم چندرپا، بی ایم چکاسوامی، کے راگھویندرا، ایس شیومورتی، ردریش، سی چندرپا وغیرہ موجود تھے۔