طلباء کے ساتھ مارپیٹ، گالی گلوچ اور مذہبی تعصب برتنے والے میر معلم کے خلاف طلباء کااحتجاج; والدین نے کیا برہمی کااظہار،ڈی ڈی پی آئی نے کی مداخلت،میر معلم کو چھٹی پر بھیجا ،مزید کارروائی کرنے کا دلایا یقین

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شیموگہ شہرکے این ٹی روڈ پرواقعہ سرکاری ہائی اسکول کے میر معلم کی جانب سے طلباء کو حراساں کئے جانے کے تعلق سے پچھلے دنوں طلباء کے والدین نے یہاں کے بی ای او آفیس میں شکایت پیش کرتے ہوئے میر معلم پرکاش کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔بی ای او نے اس معاملے میں شکایت قبول کرتے ہوئے مناسب کارروائی کرنے کی بات کہی گئی تھی،لیکن اب تک اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کارروائی نہ ہونے اور میر معلم پرکاش کی طرف سے دوبارہ اپنی حرکتوں کو شروع کرنے کی بنیاد پر آج صبح طلباء اور والدین نے اسکول کے احاطے میں احتجاج شروع کیا۔طلباء نے نعرےبازی کرتے ہوئے میر معلم کے تبادلے کا مطالبہ کیا۔طلباء جب احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر اترے اور میر معلم کو اسکول کے اندر داخل ہونے سے روکنے لگے تو میر معلم نے مدد کیلئے پولیس کو مدعوکیا،پولیس نے طلباء کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی ضد پراڑے رہے ۔اسی دوران مقامی لوگوں نے میر معلم کے خلاف طلباء کے احتجاج کا ساتھ دیااور میر معلم کے تبادلے کیلئے طلباء کی آواز میں آواز ملائی۔موقع پر سماجی کارکن سید نوراللہ،عمران خان نیلور اور کیمپس فرنٹ کے اراکین بھی پہنچے۔کافی دیربعد ڈی ڈی پی آئی اور بی ای او اسکول میں پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔اس دوران وہاں موجود میڈیاسے ڈی ڈی پی آئی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ میر معلم کے خلاف جو شکایت پیش کی گئی ہے،اُس کی تحقیقات ہورہی ہے،اس سلسلے میں ایک رپورٹ سی ای او کو روانہ کی گئی ہے،چونکہ سی ای اوکا تبادلہ ہوچکاہے اور نئے سی ای او کی آمدکے بعد اس معاملے میں کارروائی کی جائیگی،اُس وقت تک میر معلم کو لازمی چھٹی پر بھیجاجارہاہے،جب تک محکمہ کی طرف سے احکامات جاری نہیں ہوتے اُس وقت تک میر معلم پرکاش کو اسکول آنے نہیں دیا جائیگا اور اگر وہ قصوروار پائے جاتے ہیں تو اُن پر محکمہ کے قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے تبادلہ کیاجائیگا۔اس موقع پر کراٹاکے تعلقہ صدر سید پرویز ،ای سی او مستفیض الحسن اور سی آرپی مختاراحمدنے بھی ڈی ڈی پی آئی کو حالات سے بآورکیا۔طلباء نے الزام لگایاہے کہ میر معلم پرکاش مسلسل طلباء کے ساتھ مارپیٹ کرتے رہے ہیں،بعض اوقات مذہب کو لیکر گالی گلوچ بھی کرتے ہیں اور بعض اوقات اسلام کی توہین کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔ طالبات کے ساتھ صیغہ واحد(سنگیولر)میں بات کرتے ہیں اور لڑکوں کو پیروں سے مارتے ہیں۔