گرفتار تو کرلیالیکن ثبوت جٹانے کیلئے یوپی پولیس ہورہی ہے پریشان 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی: معروف اسلامک مبلغ و عالم دین مولانامحمد عمرگوتم اور مولانا مفتی قاضی جہانگیرقاسمی کو اترپردیش پولیس نے جبراً گرفتار تو کرلیا اوران پر زبردستی تبدیل مذہب کروانے کے الزامات کے تحت مقدے عائدکئے اوران پر مختلف دفعات کے مطابق معاملات درج کرنا شروع کیا ہے۔ مگر اترپردیش پولیس کے سامنے یہ پریشانی پیدا ہوچکی ہے کہ آخر دونوں علماء کے خلاف عدالت میں ثبوت پیش کریں تو کیا کریں اورثبوت کہاں سے لائیں۔ جون کی 19 تاریخ کو اترپردیش پولیس نےمولانا گوتم اور مولانا مفتی جہانگیر قاسمی کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے 1000 ہزار سے زائد لوگوں کو زبردستی اسلام میں لایا ہے۔ اسی بنیاد پر دونوں ہی علماء پر یو پی پولیس نے نیشنل سیکوریٹی ایکٹ یعنی این ایس اے کے مطابق معاملہ درج کیا ہے۔ پولیس نے مولانا عمر گوتم کو زیادہ نقصاندہ بتایا ہے اور ان کے بیرونی ممالک کے دوروں کے تعلق سے بھی ان سے پوچھ تاچھ کی ہے مگر سب سے بڑی پریشانی پولیس کے سامنے یہ ہے کہ انہوں نے من گھڑت کہانی تو بنالی، علماء کو گرفتار بھی کرلیا ، مگر پولیس کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔ ان ثبوتوں کو تیار کرنے کیلئے وہ دہلی، غازیہ آباد جیسے علاقوں میں ثبوت اکٹھا کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اورکچھ لوگوں کو دونوں علماء کےخلاف بیان دینے کیلئے اکسارہی ہے۔ پولیس نے الزام لگایا تھا کہ مولانا گوتم نے نوائیڈہ میںایک بہروں کے تعلیمی ادارے میں اسلام کی تبلیغ کرنے پہنچے تھے، لیکن 23جون کو بہروں کے تعلیمی ادارے کے سربراہ نے انڈین ایکسپریس کو ایک انٹرویو دیا جس میں ادارے نے یہ کہا ہے کہ نہ تو ان کے تعلیمی ادارے میں کسی بھی طرح کی مذہبی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں اورنہ ہی مولانا عمر گوتم اورجہانگیر قاسمی انکے ادارے کو پہنچے تھے۔ یوپی اے ٹی ایس جو الزامات عائد کررہی ہے ، اس کا سچائی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جو ایف آئی آر دونوں علماء کے تعلق سے درج کی گئی ہے اس میں بھی تفصیلات صحیح طریقے سےپیش نہیں کئے گئے ہیں۔ جملہ طور پر یوپی پولیس دونوں علماء کو گرفتا رکرنے کے بعد پس وپیش کا شکار ہوچکی ہے۔