بنگلورو:۔کرناٹک حکومت نے ریاست میں فرقہ پرستی کی اور ایک مثال قائم کی ہے جس کے مطابق اسکولوں میں گنیش کی مورتی رکھنے اور اس کاتہوار منانے کیلئے کسی بھی طرح کی روکاٹ نہیں ہوگی،اس تہوار کو اسکولوں وکالجوں میں منانے کیلئے چھوٹ دی گئی ہے۔یہ فرمان ریاست کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے جاری کیاہے۔ان کے اس فرمان کے ساتھ ہی یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ اگر اسکولوں میں گنیش کا تہوار منانے کا موقع دیاجارہاہے تو کیا وہاں مسلمانوں کو نماز پڑھنے اور عیسائیوں کو اپنی عبادت کرنے کا موقع بھی ان کی اسکولوں میں دیاجائیگا۔کرناٹکا ہائی کورٹ میں پچھلے دنوں حجاب کے معاملے میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہاتھاکہ اسکول وکالج تعلیمی مرکز ہیں اور یہاں تعلیم کیلئے ہی موقع دیاجائیگا نہ کہ کسی بھی مذہب رسم یا مذہبی سرگرمی کو انجام دینے کا موقع ہوگا۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ریاست کےا سکولوں وکالجوں میں حجاب پر پابندی عائدکی گئی تھی اور یہ بھی احکامات جاری کئے گئے تھے کہ کسی بھی حال میں کسی بھی مذہب کو اپنے مذہبی روایت کو جاری کرنے کا موقع نہیں دیاجائیگا۔جب اسکول میں کسی بھی مذہب کی روایت پر عمل کرنے کا موقع نہیں دیا جارہاہے تو کس بنیاد پر گنیش کے تہوار کو عمل میں لانے کی پہل ہورہی ہے،یہ سوال عوامی حلقے میں اٹھایا جارہاہے اور یہ بھی سوال اٹھ رہاہے کہ سیکولر جماعتیں اس معاملے کو لیکر حکومت کی مخالفت کرینگے یا پھر عدالت سےرجوع کرینگے۔
