شیموگہ : قصبوں میں پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق موجودہ منصوبوں کو مستقبل کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے مناسب طریقے سے نافذ کیا جائے۔اس بات کی ہدایت ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ایس سیلوامنی نے دی ہے۔ انہوں نے آج اپنے دفترہال میں منعقدہ شہر میں مجموعی طور پر گھریلو پانی کی فراہمی کی اسکیم امرت 2.0 منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ نشست کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ساگر، شکاری پورہ، شرالکوپا، سورب، جوگ ۔کارگل، ہوسنگر، تیرتھ ہلی، ہولے ہنور اور آنوٹی قصبوں کو امرت 2.0کیلئے نشاندہی کی گئی ہے اور انہوں نے کہا کہ 2025 تک ان قصبوں کے تمام گھروں کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے جو منصوبے تیار کیے جارہے ہیں، وہ مناسب ہونے چاہئے۔ انہوں نے حکام کو بتایا کہ ساگر ٹاؤن کیلئے 2.6 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک پریشرائزڈ واٹر سپلائی پروجیکٹ تیار کیا گیا ہے اور ایک ہی ایجنسی کو دینے کا منصوبہ بنانے کا مشورہ دیا۔ شرالکوپہ اور سوربا میں بورویلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے مشورہ دیا کہ بورویل پر زیادہ انحصار نہ کریں۔ ان دونوں قصبوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے جامع منصوبہ بندی کی جائے اور موجودہ پلان کا دوبارہ جائزہ لیں اور نیا منصوبہ تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام معیاری کام آبادی کی مناسبت اور پانی کی فراہمی منصوبے کے رہنما ئی خطوط کے مطابق مناسب طریقے سے برقرار رکھیں۔اس نشست میں ڈی یو ڈی سی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر موکپا کربھیماناوار، سی اے او موہن کمار، اے ای ای منجوناتھ، بلدیاتی اداروں کے سربراہ اور دیگر افسران موجود تھے۔
