شیموگہ:۔ریاستی حکومت کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف بی جے پی کارکنوں کا احتجاج آج غصے میں بدل گیا اورمیسکام دفتر کا محاصرہ کیا اور پتھراؤ شروع کر دیا۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کی کوششوں کے باوجود مظاہرین دفتر کے احاطے میں داخل ہوئے اور دفترکی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیئے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے ایک کارکن نے پتھراؤ کرتے ہوئےدفتر کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچایاہےجس کے بعد پولیس نے فوراً اسے گرفتار کر لیا۔ان کی گرفتاری کے بعد، بی جے پی کارکنوں نے پھر اپنے احتجاج میں شدت پیدا کی اور گرفتار شخص کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کے ای بی سرکل پر دھرنا دیا۔ اس موقع پر ایم ایل اے چنبسپااور کئی دیگرکارکنان کوپولیس نےاپنی تحویل میں لیا ۔قبل ازیں، بی جے پی قائدین نے کے ای بی سرکل میں میسکام کے دفتر کے سامنےاحتجاج کرتے ہوئےکانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایااور بجلی کی نرخوں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف نعرے بازی کی۔رکن اسمبلی چنبسپا نے بات کرتے ہوئےکہاکہ ریاست کی کانگریس حکومت غریب مخالف حکومت ہےجو جھوٹ بول کر اقتدار میں آئی ہے۔اگر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتاہے توصنعتوں کا بُراحال ہوگا،بی جے پی کے دورِ اقتدارمیں جب بجلی کمپنیوں نے حکومت کو نرخ بڑھانے کی تجویز پیش کی تو بی جے پی حکومت نے انکار کر دیا لیکن کانگریس حکومت اقتدار میں آنے کی ضمانتوں کا جھوٹ بول کر بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر کے مکاری کی سیاست کر رہی ہے ۔احتجاج میں کارپوریشن مئیر شیوکمار،نائب میئر لکشمی شنکر نائک،ایم ایل سی رودرے گوڈا،ڈی ایس ارون،سونیتا انپا،ایس دتتارے،سُریکھا مرلیدھرسمیت دیگر کارکنان موجود تھے۔اس موقع پرایگزیکٹیو انجینئر ویریندرانے بتایاکہ میسکام دفتر پر جن احتجاجیوں نے توڑپھوڑکی ہے ، اُن کے خلاف معاملہ درج کروایاجائیگا، اگر وہ میمورنڈم دیتے تو ہم اُسے حکومت تک پہنچانے کا کام کرتے مگر یہاں پر توڑ پھوڑکی گئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں قانونی کارروائی کرنی ہی ہوگی۔
