شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔ رئیل ایسٹیٹ ایجنٹ محمد صادق (40) کے قتل کی واردات میں ملوث ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ شہر کے الیاس نگر کے ساکن منصور، کارپینٹرفاروق، اورشاہد گرفتار ہونے والے ملزمان ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ منصور اورصادق گہرے دوست تھے۔ دونوں رئیل اسٹیٹ میں لین دین کیا کرتے تھے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے منصور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں مسلسل نقصان اٹھارہا تھا جس کی وجہ سے وہ مالی مشکلات میں مبتلاءہوچکا تھا۔ مقتول صادق نے منصور کو کچھ ماہ قبل مختلف سرمایہ کاروں سے قرضہ دلوایا تھاجسے منصور ادا کرنے سے قاصررہا ، جب سرمایہ کاروں نے صادق پر رقم واپس دلوانے کیلئے دبائوڈالاتو صادق اور منصور کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے، آہستہ آہستہ یہ اختلافات جھگڑے میں تبدیل ہوگئے تھے، اسی دوران صادق نے منصور کو رقم ادا کرنے کیلئے بات کی تو دونوں کے درمیان گالی گلوچ ہوئی، اسی بات کی بنیاد پر منصور نے صادق سے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کیااور اپنے کچھ پہچان کے نشے بازوں کو صادق کا قتل کرنے کیلئے آمدہ کیا تھا۔ قریب ایک ماہ سے صادق کے قتل کیلئے جال بچھایا گیا تھا۔ لیکن اس پر عمل کرنے کیلئے انہیں مناسب موقع نہیں ملاتھا۔ صادق کے قتل کیلئے منصور ، فاروق اورشاہد نے اسی مہینے کی 16 تاریخ کو منصوبہ بنایا تھا ، لیکن اس دن صادق انہیں مل نہیں سکا تھا۔ ٹھیک ایک ہفتے تک حملہ آوارصادق کی تاک میں تھے اور 24 ستمبر کی شام 5 بجے صادق کو فون کرکے رقم ادا کرنے کی بات کہی اور اسے سنسان جگہ پر بلایا تھا۔ منصور نے اپنے ہی لے آئوٹ پر صادق کو آنے کی ہدایت دی، ایک تو دوستی دوسرا اعتماد کی لاج رکھ کر صادق بتائے ہوئے مقام پر پہنچا۔ مگر وہاں پر صادق کو ختم کرنے کیلئے پہلے سے ہی تیار بیٹھے فاروق اورشاہد نے اس پر حملہ کردیا۔ بڑے پتھر سے وار کرتے ہوئے صادق کو موت کے گھاٹ اتار ادیا ۔ دوستی ، بھروسہ اور تعلقات پر پیسہ بھاری پڑا اور پیسوں کی لالچ میں ایک تھالی میں کھانے والے دوست نے ہی دوسرے دوست کا قتل کرتے ہوئے دوستی واعتماد کو تار تار کردیا ہے ۔قتل کی اس واردات کو سلجھانے میں تنگا نگر پولیس تھانے کےسرکل انسپکٹر دیپک ، سی ای این پولیس کے انسپکٹر گروراج کھرکی نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ ایس پی لکشمی پرساد اورڈی وائی ایس پی پرشانت مولولی نے پولیس ٹیم کی رہنمائی کی۔
