دہلی:۔کانگریس کےسینئرلیڈر غلام نبی آزادآخرکار کانگریس پارٹی کی غلامی سے آزاد ہوچکے ہیں،انہوں نے آج اپنا استعفیٰ دے دیاہے،ساتھ ہی ساتھ انہوں نے نئی پارٹی بنانے کا اشارہ بھی دیاہے۔ انہوں نے استعفیٰ دینے کے ساتھ پارٹی ہائی کمان پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کو مذاق اور ڈھونگ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بشمول بنیادی قیادت اور تمام عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے۔ پانچ صفحات پر مشتمل ایک خط پارٹی کی عبوری صدر سونیا گاندھی کو بھیجا گیا ہے، جہاں انہوں نے پارٹی کے ساتھ اپنی طویل وابستگی اور اندرا گاندھی کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو یاد کیا۔ صحت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنظیمی عہدے سے استعفیٰ دینے کے چند دن بعد غلام نبی آزاد نے اپنے تفصیلی استعفیٰ خط میں لکھا، کانگریس پارٹی کی صورتحال میں اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ وہ بھاری دل کے ساتھ یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ آزاد نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ اپنی نصف صدی پرانی وابستگی کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راہل گاندھی پرحملہ کرتے ہوئے آزاد نے غیر سنجیدہ فرد کہا۔ آزاد نے کہا کہ انہوں نے پارٹی میں مکمل مشاورتی طریقہ کار کو تباہ کر دیا ہے، تمام سینئر اور تجربہ کار لیڈروں کو نظر انداز کر دیا ہے اور نا تجربہ کار کے نئے گروہ کو جنم دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام تنظیمی انتخابی عمل ایک دھوکہ ہے۔ ملک میں کہیں بھی تنظیم کے کسی بھی سطح پر انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ آزاد نے مزید لکھا کہ بدقسمتی سے 2013 میں راہل گاندھی کے سیاست میں داخل ہونے کے بعد اس سے پہلے موجود تمام مشاورتی میکانزم کو انہوں نے ختم کر دیا تھا۔73 سالہ لیڈر نے سونیا گاندھی کو نامزد شخصیت قرار دیا اور کہا کہ راہل گاندھی اور ان کے سیکورٹی گارڈز اور پی اے اہم فیصلے لینے میں شامل تھے۔ آزاد یو پی اے 2 کے دور میں مرکزی وزیر صحت تھے۔ جون 2014 میں، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرنے اور مرکزی حکومت بنانے کے بعد، آزاد کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر مقرر کیا گیا۔آزاد کا استعفیٰ اس وقت آیا ہے جب تجربہ کار سیاسی رہنما نے اپنی تقرری کے چند گھنٹوں بعد جموں و کشمیر کانگریس کی مہم کمیٹی اور سیاسی امور کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جی ایم سروڑی نے آزاد کے بارے میں بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ جلد ہی اپنی ایک نئی سیاسی پارٹی بنائیں گے۔ ان کے کئی حامیوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بتا دیں کہ غلام نبی آزاد کافی عرصے سے پارٹی سے ناراض چل رہے تھے۔ جی-23 دھڑے کے ذریعے وہ کانگریس میں کئی اہم تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے رہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کانگریس کو اس طرح کا دھچکا لگا ہو، اس سے پہلے کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر کپل سبل نے بھی پارٹی سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ بعد میں سماج وادی پارٹی نے ان کی حمایت کی اور انہیں راجیہ سبھا بھیج دیا۔
