اندھے عقائد میں حقیقت کھوگئی ہے: ڈاکٹر آرسی چندر شیکھر

ڈ سٹرکٹ نیوز
ساگر:۔ناقابل قبول خیالات اور افواہوں کی بھول بھولیا میں حقیقت کہیں کھو گئی ہے۔ سچ کی تلاش مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ان باتوں کا اظہارنمہانس بنگلوروکے وظیفہ یاب ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر آرسی چندرشیکھر نے کیاہے۔ انہوں نے تعلقے کے ایل بی ایس کالج میں لوہیا کی یوم پیدائش کے موقع پر کالج کے زیر اہتمام ”اندھا عقیدہ اور ذہنی صحت” پرخصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالا جادو، بھوت، پریت، بھگوان کاجسم میں داخل ہونا، واستو کے نام پر دھوکہ دہی اور دیگرکے خلاف ہمیں خبردار رہنا چاہئے۔ سائنسی طور پر نہ سوچنے والوں کے ذہنوں پرغلط باتیں مسلط کر کے کچھ لوگ پیسے بٹورنے کا عمل بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اس طرح کے توہمات اور اندھے عقیدوں کے غلام رہیں گے، ہمارے ذہنوں سے کھیل کر پیسہ کمانے والے لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی رہے گی۔ہمیں حقیقت کو دیکھنا اورسمجھنا چاہئے۔ حقیقت پر مبنی منصوبہ بندی کرنا سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سچائیوں کے درمیان فرق کو پہچاننے میں ناکام رہے تو ہم فریب کے جال میں پھنس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں لوگوں سے زیادہ خدائوں کی تعداد موجود ہے۔ خدا کے نام پر بڑھتے ہوئے استحصال کو روکنے کیلئے سب سے پہلے ہمیں آگاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنوں کو گھیرنے والے اندھے عقائد کو پروان چڑھنے کی اجازت ہرگز بھی نہیں دینی چاہئے۔اس موقع پرایم ڈی ایف کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ایچ ایم شیوکمار، پرنسپل ڈاکٹر لکشمیش، ایم ڈی ایف کے ماسٹر ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل پروفیسر سموکھ، بی ایڈ کالج بی پی این ہیگڑے وغیرہ موجودتھے۔