دہلی : بھوٹان سے ہر سال کم ازکم امپورٹ قیمت ( منیمم امپورٹ پرائز) کے بغیر ہرسال 17 ہزار ٹن سپاری کی برآمدگی کیلئےحکومت نے منظوری دے دی ہے ، حکومت کے اس فیصلے سے کرناٹک سمیت ملک کے مختلف مقامات پر سپاری کی کاشتکاری کرنے والوں کے ہوش اڑا دئے ہیں ۔ سال 2017 میں ملک کے کاشتکاروں کی بقاء کو دیکھتے ہوئے حکومت نے امپورٹ کئے جانے والی سپاری کی کم از کم قیمت 251روپئے طئے ہوئی تھی اور اگر امپورٹ کی جانے والی سپاری کی قیمت اس سے کم کی جاتی تو اس کے امپورٹ پر پابندی لگائی گئی تھی ۔ کم سے کم قیمت سے نچھلی سطح پر سپاری کو امپورٹ کرنے سے روکا گیا تھا جس کا فائدہ ملک کے سپاری کاشتکاروں کو ہورہاتھا۔ بھوٹان سے سپاری کے امپورٹ کرنے کیلئےحکومت نے احکامات جاری کردئے ہیں اسکے لئے محض ڈی جی یف ٹی کا رجسٹریشن کافی ہے ۔ بھوتان سے ہر سال 17 ہزار سپاری کو بغیر منیمم پرائز کی شرط کے امپورٹ کرنے کا موقع دیا جارہاہے ۔ سال 2022 میں دوسری میعاد میں بھوٹان سے 8500 ٹن سپاری کو برآمد کرنے کیلئےاحکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ سال 2023 تک 17 ہزار ٹن سپاری کو برآمد کرنے کا موقع دیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے بھارت کے سپاری کاشتکاروں کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے ، خصوصََا کرناٹک کے سپاری کاشتکاروں کیلئےیہ مشکل بات ہوگی کیونکہ کرناٹک میں سب سے سپاری کی کاشتکاری ہوتی ہے اوراس سے سالانہ ہزاروں کروڑ روپیوں کا کاروبار ہورہاہے ۔ اگر بھوٹان سے سپاری امپورٹ کی جاتی ہے تو یہاں لاکھوں ایکر زمین پر اگائی گئی سپاری کی کاشت کی قیمتوں میں گراوٹ آسکتی ہے اور کاشتکاروں کی آمدنی بری طرح سے گھٹ سکتی ہے ۔ اس تعلق سے کرناٹک کے وزیر ارگاگنیانیندر نے بتایا ہے کہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے ملک کے کاشتکاروں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اس تعلق سے بے فکر رہیں ۔ اس وقت بھوٹان سے امپورٹ کرنے سے زیادہ ایکسپورٹ کیاجارہا ہے اور بھوٹان سے صرف کچی سپاری امپورٹ کی جارہی ہے جس کا اثر کسانوں پر نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں اراکین پارلیمان کے وفد کے ساتھ جلدہی مرکزی حکومت سے ملاقات کی جاسکتی ہے۔
