بنگلورو:۔ملک میں پی ایف آئی پر پابندی عائد کرنے کے بعد لوگ خصوصاً مسلمان کئی طرح کے سوالات کے گھیرے میں گھر چکے ہیں اور یہ سوال اٹھارہے ہیں کیا پی ایف آئی دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کریگی؟اس تعلق سے عوام کے خدشات بڑھتے ہی جارہے ہیں۔مرکزی حکومت نے پی ایف آئی پر پانچ سال کی پابندی عائدکی ہے اور اس پر مختلف الزامات بھی عائدکئے ہیں۔اس دوران پی ایف آئی کے ذریعے عدالت سے رجوع بھی کیاجاسکتاہے اور عدالت کے فیصلے کے مطابق پی ایف آئی کی سرگرمیاں انجام دی جاسکتی ہیں،اگر عدالت مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر روک لگاتی ہے تو پی ایف آئی فوری طورپراپنی سرگرمیوں کو شروع کرسکتی ہیں اور اگر عدالت حکومت کے فیصلے پرروک نہ لگاتے ہوئے اس تعلق سے مستقل شنوائی کا حکم صادر کرتی ہے تواس قانونی جنگ میں تاخیر ہوسکتی ہے۔وہیں دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ پی ایف آئی کے کارکنان کچھ دن بعد دوبارہ اپنی سرگرمیوں کو شروع کرسکتے ہیں،البتہ وہ نئے نام کے ساتھ میدان میں اترینگے،کیونکہ مرکزی حکومت نے پی ایف آئی اور ا سکی 8 ذیلی تنظیموں پر پابندی عائدکی ہے نہ کہ اس کے مکمل کارکنوں پر کسی بھی طرح کے سماجی،ملی یا سیاسی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے پر پابندی عائدکی گئی ہے۔ اس لحاظ سےدیکھاجائے تو پی ایف آئی اپنی سرگرمیوں کو دوبارہ نئے نام اور نئے ایجنڈوں کے ساتھ شروع کرسکتی ہے۔اس وقت عدالتی تحویل میں جن لیڈروں کو بھیجاگیاہےان کے علاوہ پی ایف آئی میں دوسرے او رتیسرے مرحلے کی قیادت تیارکی گئی ہے اور پی ایف آئی کی جانب سےجو فکر اور ذہن سازی ان کے کارکنوں میں کی گئی ہے وہ دوبارہ نئے سرے سے قیادت کیلئے تیارہے۔حالانکہ اس منصوبے کو رائج کرنے میں کچھ وقت ضرور لگ سکتاہے لیکن پوری طرح سے پی ایف آئی کے کارکنان خاموشی بیٹھیں گے یہ ممکن نہیں ہے۔
