داونگیرے:۔شہر کے دوڈ پیٹ میں واقع ویرکتا مٹھ میں مجاہد ِ آزادی آزاد بھارت کے پہلے مرکزی وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا”مولانا آزاد تعلیمی و ثقافتی ادارے "کی جانب سےمرگھا راجیندرا ویرکتا مٹھ کے بسواپربھو سوامی کی صدارت میں135واں یومِ پیدائش کا انعقاد کیا گیااس موقع پر مٹھ کے اسکول طلباءو طالبات کے علاوہمحکمہ تعلیماتِ عامہ کے ضلع افسر کوٹریش، شہر کے معروف کاروباری کے جاوید ،تنظیم المسلمین فنڈ اسوسیشن کے سابق سکریٹری شہنواز خان وغیرہ شریک رہے،مٹھ کی اسکول طلباء نے ترانہ پیش کیا پھر طلباء و طالبات کو بسواپربھو سوامی و معززین کے ہاتھوں تعلیمی اشیاءدیتے ہوئے اجلاس کا افتتاح کیا گیا ، ادارے کے بانی و صدر سماجی کارکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد نے افتتاح کے بعد افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے قیام سے لے کر ہر سال مولانا آزاد تعلیمی و سماجی ادارے کی جانب سے مولانا ابوالکلام آزاد کا یومِ پیدائش منائے جانے کی روایات رہی ہیں ،اس مرتبہ مرگھا راجیندرا ویرکتا مٹھ میں مولانا ابوالکلام آزاد کا یومِ پیدائش منایا جانا اور سوامی کی جانب سے موقع فراہم کرنا یقینا مٹھ کی قوم یکجہتی آپسی رواداری کی ایک مثال ہے جو مٹھ میں برسوں سے چلی آرہی ہے،مولانا آزاد کی انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے میں نمایان خدمات رہی ہیں وہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے ایک عظیم مجاہدِ آزادی گذرے ہیں ،شادی کے دن ہی اُنہیں انگریزوں نے گرفتار کیا ،بیوی جب زندگی کے آخری ایام گذار رہی تھی وہ جیل کی صعوبتیں جھیل رہے تھے مگر کبھی بھی ملک بھارت کی آن کو آنچ آئے برداشت نا کیا ،وہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم رہے آج تعلیمی شعبہ جہان تک ترقی کرتا ہوا ہم دیکھ رہے ہیں یہ اُنہی کی مرہونِ منت کہا جانا کوئی غلط نہیں ،عمر کے تقاضوں سے جب بیماریا ں گھیر لیتی ہیں تو انسان چلنے پھرنے میں دشواریاں محسوس کرتا ہے اِنہی دشواریوں سے جب وزیر تعلیم کے منصب سے سبکدوش ہونے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہروکو مولانا آزاد نے جب اپنا استفاء نامہ پیش کیا تو ملک کے وزیر پنڈت جواہر لال نہرو ششدر رہ گئے اور کہا کوئی بات نہیں اپنے گھر اور دفتر سے ذمہ داری نبھائیں استعفے کی کیا ضرورت تو مولانا نے کہا ملک آزاد ہوئے کچھ ہی سال ہوئے ہمیں ترقی کی جانب بڑھنا ہے اور جب ہم میں چلنے پھرنے کی سکت نہیں تو عہدے سے چپک کر رہنا ملک سے انصاف نہیں کہائے گا ہمیں ہر حال میں ملک کو ترقی کی جانب لے جانا ہے استعفیٰ منظور ہونا ہی ہے ،ضروری ہے کہ ایسی شخصیتوں کو زندہ رکھا جائے اُن کے کارناموں سے آئیندہ نسلوں کو مشعل راہ ملے ۔مگر افسوس! بڑی خوشی کی بات ہےآج اس موقع پر سوامی جی نے اپنے مٹھ میں اِس دن کو منانے کاجوموقع فراہم کیا اس کے لئے سوامی کا بے حد ممنون ہوں ،کے جاوید نے اپنے خطاب میں کہا سی آر نصیر احمد یقینا ایک متحرک وفعال شخصیت کا نام ہے شہر داونگیرے میں اور ضلع بھر میں سماجی خدمت کا جو انوکھا انداز اِنہوں نے اپنے ادرے کے ذریعہ اپنایا ہے اس کو ہم سب کو اپنانا ضروری انسان کو اپنے جسم کو بحال رکھنے جس طرح کھانے کی ضرورت ہے اسی طرح اپنی روح کی تسکین کے لئے سماجی خدمت ضروری ہے ،سالانہ تقریبا دس ہزار سے زائد طلبا ء و طالبات کو سی آر نصیر احمد اپنے ادارے کی جانب سے تعلیمی اشیاء پین پینسل اسکول بیاگ ،اور مٹھائی وغیرہ دیکر اپنی روح کی تسکین کا سامان کرتے ہیں اور آج الگ سے مولانا آزاد کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے دوہزار طلباء و طالبات کو تعلیمی اشیاء کے ساتھ سب کو مٹھائی کا انتظام کرنا لائق تحسین ہے،معاشرے کے ہر صاحب ثروت فرد کو چاہیئے کہ وہ اِن صفات کو اپنے اندرداخل کرے بلاتفریق مذہب ملت مٹھ کی رویات قابل داد ہیں ،مرگھاراجیندرا ویرکتا مٹھ کے بسواپربھوسوامی کو مولانا آزاد کے یوم ِ پیدائش کے موقع پر ملک ہند کے جملہ عوام کی جانب سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں یہ بسوا پربھو سوامی کاوسیع نظریہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ مسلم طبقہ سے وابستہ ایک مجاہدِ آزادی کا یومِ پیدائش منانے کیلئے مولانا آزاد تعلیمی وسماجی دارے کو مٹھ کے اندر موقع فراہم کرنا آپسی اخوت بھائی چارہ اور قومی ایکجہتی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے،محکمہء تعلیماتِ عامہ کے ضلع افسر کوٹریش نے اس موقع پر کہا کہ مولانا آزاد ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جنہیں رہتی دُنیاں تک کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ،تعلیمی میدان میں جو کچھ ترقیات ہمارے سامنے ہیں وہ سب مولانا آزاد کی دوراندیشی کا نتیجہ ہیں،ملک بھر میں آج یونیورسٹیز ،آئی آئی ٹی ،آئی اے یم کا جو جال پھیلا ہوا ہم دیکھ رہے ہیں اِ نکی بنیاد مولانا ابوالکلام آزاد نے ہی رکھی وہ ایک سچے محبِ وطن تھے اُن کی سفات کو طلباء اپنے اندر سماء لیں گے تو یقنا کامیابیاں قدم چومیں گی اُن کے یومِ پیدائش کا نعقاد لائق ستائش ہے اس کے لئے سی آر نصیر احمد اور اُن کے ادارے سے جڑے سبھی احباب کو مبارک باد ہے کہ اس موقع پر ہمیں مدعو کیا اور مولانا آزاد جیسی شخصیت پر بات کرنے کا موقع فراہم کیا کہتے ہوئے ڈی ڈی پی آئی کوٹریش نے کہا اس موقع پر محکمہء تعلیماتِ عامہ کی جانب سے سی آر نصیر احمداور ادارے کو تہنیت پیش کی ۔شہنواز خان نے بھی مٹھ ،سوامی ، اور سی آر نصیر احمد کی مسلسل سماجی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے سراہا ، صدارتی خطاب کرتے ہوئے بسواپربھوسوامی نے کہاکہ جسم کو غذا جس طرح ضروری ہے اسی طرح سماج کو بھی دیکھ بھال کرنے سے روح کو غذافراہم ہوتی ہے، سب آدم کی اولاد ہیں اِس نظریہ سے سارے ہی انسان آپس میں بھائی ہیں بس اپنی پہچان کے لئے الگ الگ طبقات کے نام سے جانے جاتے ہیں ،الگ الگ طبقات سے تعلق ہونا اسی کو بہانہ بناکر ایک دوسرے پر طنض و تعٰن کا ماحول پیداکرنا کسی صورت انسانی خدمت نہیں ہوسکتی مولانا آزاد تعلیمی و سماجی ادارے کی انسان دوست خدمات کی وجہ سے یکم نومبر کو”مولانا آزاد تعلیمی و ثقافتی ادارے کے بانی و صدر داکٹر سی آر نصیر احمد کو ریاستی حکومت کے ایک بڑے اعزاز کنڑا راجیوتسواسے نوازہ گیا جو ہمیں بڑا سکون دے گیا کسی کو شاید اس قدر خوشی ناہوئی ہوگی جس قدر ہمیں اور اس مٹھ سے جڑے احباب کوریاستی حکومت کے محکمہء کنڑا و ثقافت کی جانب سے ریاستی وزیراعلیٰ سدارامیا کے ہاتھوں کنڑراجیو تسوا اعزاز دیئے جانے ہوئی ،مٹھ کی اسکول میں تقریبا ایک ہزار طلباء و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ اُن میں پندرہ سے بیس فیصد طلباء مسلم طبقہ سے جڑے ہوئے ہیں اور اسکول میر معلم کے فرائض بھی ایک مسلمان فرد روشن کے ذمہ ہے مٹھ ہمیشہ تمام طبقات کے ساتھ یکساں برتاؤ اور انسان دوستی کا درس دیتا ہے،سی آر نصیر احمد جیسے افراد سے معاشرے میں پائے جانے والی ذات پات کی خلا ختم کیا جا سکتا ہے اگر ہم سب نے ساتھ دیا تو ،نظامت میر معلم روشن نے ادا کئے ،اسکول کے تمام اساتذہ عملہ شریک رہے ۔
