کیا مسلمان نوجوانوں کے تئیں فکر مند ہیں ؟

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

تعلیم یافتہ ہوکر بھی کیوں ہورہے ہیں نوجوان بے کا ر ؛ صرف سرٹیفکیٹ کی نہیں ، صلاحیت کی بھی ہے ضرورت !

شیموگہ : گذشتہ کچھ سالوں سے مسلمانوں میں تعلیم کا رحجان بڑھ رہاہے اور اکثر نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، ہر دس میں ایک مسلم نوجوان ڈگری حاصل کررہاہےاور ان کے پاس تعلیمی سرٹیفیکٹ تو ہے لیکن صلاحیتوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ روزگار حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں ۔ نوجوانوں میں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وہ صرف ڈگر ی حاصل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں نہ کہ اسکے ساتھ ساتھ کسی ہنر یا پیشہ وارانہ تربیت کو حاصل کرنا انکا مقصد رہاہے ، اسکے لئے جہاں نوجوانوں کی لاعلمی اہم وجہ ہے وہیں دوسری طرف معاشرے کے ذمہ داران ، تعلیم یافتہ افراد اور پیشہ ور لوگ نوجوانوں کی ذہن سازی اور تربیت کے تعلق سے فکر مند نہیں ہیں ۔ کئی ایسے لوگ ہیں جنہوںنے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اچھے عہدوں پر فائز ہیں ، مختلف کمپنیوں یا کارپوریٹ سیکٹر میں برسرروزگار ہیں ، کئی مسلم ایسے بھی ہیں جو سرکاری محکموں میں بڑے عہدوں پر فائزہیںلیکن وہ صرف میں ہوا میرا گھر ہوا کے فارمولے پر کام کررہے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ ساتھ قوم ، سماج اور معاشرے کی فلاح و بہبودی کے لئے بھی کام کرتے ، لیکن ایسا نہیں ہورہاہے جس کی وجہ سے نوجوان ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پارہے ہیں ۔ وہیں دوسرے مذاہب کی بات کی جائے تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے سماج کے لوگوں کی ترقی کے لئے بھی فکر مند ہوتے ہیں ۔ مار واڑی ہو ں یا پھر یہودی ، عیسائی ہو یا پھر کوئی اور قوم وہ اپنے لوگو ں کی ترقی کے لئے جس طرح سے سنجیدگی سے کام کررہے ہیں وہ کام شاید ہی مسلمانوں میں آرہی ہے ۔ حالانکہ قرآن میں مسلمانوں کو باہمی تعاون ، باہمی امداد اور باہمی ترقی کادرس دیا گیا ہے اور کس طرح سے اپنے مال کو ایک دوسرے پر خرچ کرنا ہے یہ بھی بتایا گیا ہے لیکن مسلمانوںنے اس قرآن کے اہم پیغامات کو چھوڑ کر محدود احکامات پر عمل کرنا ہی اسلام سمجھ رکھا ہے ۔ جبکہ غیروں نے قرآن کے احکامات کو جان کر اسے اپنی زندگیوں میں اپناتے ہوئے ترقی کی راہ اختیار کی ہے ۔ اگر واقعی میں مسلمان چاہتے ہیں کہ انکی نسلیں تباہ و بربادہونے سے رہ جائیں تو انہیں چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی ترقی کے لئے آگے آئیں ، اپنے اپنے علاقوں میں انکے لئے روزگار کے مواقع فراہم کریں ، انکی تربیت کے لئے انسٹی ٹیوٹس بنائیں ، پروفیشنل کورسس اوراسکلڈ ڈیویلپمنٹ سنٹرز کا قیام کریں تب جاکر مسلم قوم کے نوجوان باصلاحیت ہو سکتے ہیں ۔ صرف ڈگری دلوانا کوئی بڑا کام نہیں ہے بلکہ ڈگری حاصل کرنے والوں کو روزگار سے جوڑ کر خود کفیل بنانا اور انکے ذریعے دوسروں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا اہم کام ہے ۔