دنیا میں انتہائی غربت ابھی برقرار رہے گی: عالمی بینک کاانتباہ 

انٹرنیشنل نیوز
 نیویارک:۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ دنیا سن 2030 تک انتہائی غربت کے خاتمے کا ہدف حاصل کرسکے۔ ماہرین کے مطابق کووڈ انیس نے برسوں کی ترقی مٹی میں ملا دی جبکہ جنگ اور مہنگائی سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔عالمی بینک نے بدھ کے روزغربت اور مشترکہ خوشحالی کے عنوان سے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں عالمی سطح پر انتہائی غربت کے خاتمے کی کوششوں میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کورونا وائرس کی وبا کو ایک تاریخی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس وبا نے غربت کے خاتمے کے لیے دہائیوں سے کی جانے والی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔عالمی بینک کے مطابق سن 2020 میں دنیا بھر میں 71 ملین سے زیادہ افراد یومیہ 2.15 ڈالر یا اس سے کم (جو انتہائی غربت کا نیاعالمی معیار ہے) پر زندگی گزار رہے تھے جن کی تعداد اب 719 ملین ہوگئی ہے جو کہ عالمی آبادی کا تقریباً 9.3 فیصد ہے۔ یہ گزشتہ 30 برسوں کے دوران کسی ایک برس میں انتہائی غربت کی سطح تک پہنچنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔عالمی بینک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال اب اور بھی تاریک ہوگئی ہے کیونکہ یوکرین میں روس کی جنگ کے ساتھ ساتھ چین کی کمزور ہوتی معیشت، افراط زر اور خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب مستقبل میں پیش رفت میں مزید رکاوٹیں پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں ترقی کو فروغ دینے والی بڑی پالیسی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔عالمی بینک کے اندازے کے مطابق سن 2030 میں دنیا کی سات فیصد آبادی انتہائی غربت میں زندگی گذارے گی۔ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ انتہائی غربت کو کم کرنے میں ہونے والی پیشرفت بنیادی طور پر کمزور عالمی اقتصادی ترقی کے ساتھ رک گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ افراط زر، کرنسی کی قدروں میں کمی اور وسیع تر ایک دوسرے کو متاثر کرنے والے بحران نے غربت کو مزید ہوا دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی نمو میں بڑے پیمانے پر اضافہ نہ ہونے کی صورت میں سن 2030 میں دنیا کے تقریباً 574 ملین افراد، جو کہ عالمی آبادی کا تقریباً 7 فیصد ہیں، انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔ خیال رہے کہ عالمی بینک نے سن 1990میں جب سے غربت کو مانیٹر کرنا شروع کیا، یہ شرح  38 فیصد تھی جو دھیرے دھیرے کم ہو کر سن 2019 میں 8.4 فیصد تک آگئی تھی۔بدھ کے روز جاری رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سن 2030 تک انتہائی غربت کے خاتمے کا ہدف ابھی دسترس سے باہر ہے۔