شیموگہ : کسانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم کرتے ہوئے اگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر یونیورسٹی کام کررہی ہے جس کی وجہ سے اس یونیورسٹی کو ملک میں 32 واں مقام حاصل ہوا ہے، اس بات کااظہار کیلادی شیوپانائک اگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر یو نیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جگدیش نے کیاہے ۔ انہوںنے آج یہاں پریس ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ میٹ دی پریس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل ہارنہلی ، نیامتی ، کمسی جیسے دیہاتوں میں کسانوں کے ساتھ طلباء ،سائنسدانوںنے کام کیا تھا ، امسال ساگر تعلقہ کے مختلف ہوبلی دیہاتوں میں کام کیا جائیگا ، وہاں کی فصلوں ، فصلوں کی بیماریوں اور بیماروں کے علاج کے تعلق سے تحقیقی کام کیا جائیگا۔ ضلع میں کاجو کی کاشتکاری کے لئے بہتر موسم ہے ، اس سے قبل یونیورسٹی کی جانب سے کاجو کی کاشتکاری کے لئے تائید کی گئی تھی ، اس دفعہ بھی مختلف اقسام کے 1 لاکھ کاجوکے پودے تقسیم کئے جائیں گے اس کے ساتھ ہی کوکو ، پھنس ، کالی مرچ، الائچی جیسے تجارتی فصلوں کی پیداوار کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں ۔ مرکز کی جانب سے منظور شدہ 7 منصوبوں پر کام کیا جارہاہے جس میں الائچی ، سپاری ، کاجو ، کالی مرچ کے باغات کو فروغ دینا ہے ۔ فوڈ پریزرویشن میں بہت زیادہ مواقع ہونے کی وجہ سے اس تعلق سے بھی یونیورسٹی میں کورس شروع کیا جارہاہے جبکہ جنگلاتی تحفظ و ترقی کے تعلق سے کورس کی تعلیم جاری ہے ۔ سپاری کے تحقیقی مرکز سے بہتر میعار کی سپاری کی پیداوار کے لئے تحقیق کی جارہی ہے ، ضلع میں بارش اور ہوا میں نمی ہونے کی وجہ سے اکثر سپاری کی فصلوں پر کیڑا لگ رہاہے جس کےلئے تحقیق کرنے کے لئے یونیورسٹی نے سائنسدانوں کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔ ہر سال 14 لاکھ مختلف پودوں کو تیارکرتے ہوئے کسانوں کو پیداوار کے لئے دیا جاتاتھا امسال 18 لاکھ پودوں کی پیداوار کی جارہی ہے ، اسکے علاوہ شہد کی پیداوار کے لئے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، امسال 1500 کلو شہد کی پیداوار ہوئی ہے ، شہد کی مانگ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے کو مزید ترقی دی جارہی ہے ۔ پریس ٹرسٹ کے صدر ین منجوناتھ وغیر ہ موجود تھے ۔
